یوکرین روس مذاکرات پر پیش رفت، امریکی ایلچی نے بات چیت کو مثبت قرار دے دیا

یوکرین روس مذاکرات پر امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف کا بیان
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف کا یوکرین اور روس کے ساتھ مذاکرات کو “مثبت اور تعمیری” قرار، امن کی امید روشن

یوکرین اور روس کے درمیان جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے عالمی سفارتی کوششوں میں حالیہ دنوں کے دوران ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکہ کے خصوصی صدارتی ایلچی سٹیو وٹکوف نے اعلان کیا ہے کہ روس اور یوکرین کے ساتھ فلوریڈا میں ہونے والی الگ الگ بات چیت “مثبت اور تعمیری” رہی ہے، جسے عالمی سطح پر امن کی جانب ایک اہم سفارتی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں بتایا کہ فلوریڈا میں ہفتے کے اختتام پر روسی اور یوکرینی حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں امید افزا ماحول میں ہوئیں۔ ان ملاقاتوں کا بنیادی مقصد یوکرین میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے صدر ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے کو عملی شکل دینا تھا۔

وٹکوف کے مطابق گزشتہ دو دنوں کے دوران فلوریڈا میں روس کے خصوصی ایلچی کیریل دمتری یوف نے امریکی وفد سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں یوکرین بحران کے سیاسی حل، جنگ بندی کے امکانات اور مستقبل میں سلامتی کے انتظامات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وٹکوف نے ان مذاکرات کو نہ صرف مثبت بلکہ تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین نے سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔

امریکی ایلچی نے اس موقع پر کہا کہ روس یوکرین میں امن کے حصول کے لیے مکمل طور پر پرعزم نظر آتا ہے۔ ان کے مطابق روسی قیادت یوکرینی تنازع کے حل اور عالمی سلامتی کی بحالی کے لیے امریکہ کی سفارتی کوششوں اور حمایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ یہ بیان اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ حالیہ برسوں میں روس اور امریکہ کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار رہے ہیں۔

سٹیو وٹکوف نے یہ بھی واضح کیا کہ روس کے ساتھ ہونے والی بات چیت محض رسمی نہیں تھی بلکہ اس میں عملی تجاویز اور قابلِ عمل نکات پر غور کیا گیا۔ ان کے بقول، امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ باہمی عدم اعتماد رہا ہے، تاہم حالیہ ملاقاتوں نے اس خلیج کو کم کرنے میں مدد دی ہے۔

اس سے ایک روز قبل، اتوار کے روز، وٹکوف نے فلوریڈا میں امریکہ، یوکرین اور یورپی نمائندوں کے درمیان گزشتہ تین دنوں کے دوران ہونے والی علیحدہ بات چیت کے بارے میں بھی تفصیلات فراہم کیں۔ انہوں نے ان مذاکرات کو بھی “مثبت اور تعمیری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام فریقین یوکرین میں ایک منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے سنجیدہ ہیں۔

وٹکوف کے مطابق امریکہ اور یوکرین کے درمیان ہونے والی بات چیت چار اہم دستاویزات پر مرکوز رہی۔ پہلی دستاویز ایک 20 نکاتی امن منصوبے کی مزید تیاری سے متعلق تھی، جس کا مقصد جنگ کے فوری خاتمے اور مرحلہ وار سیاسی حل کی بنیاد رکھنا ہے۔ دوسری دستاویز کثیرجہتی سلامتی ضمانت کے فریم ورک پر موقف کی ہم آہنگی سے متعلق تھی، تاکہ مستقبل میں یوکرین کو بیرونی خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

تیسری اہم دستاویز یوکرین کے لیے امریکی سلامتی ضمانت کے فریم ورک پر موقف کی ہم آہنگی سے متعلق تھی۔ اس میں امریکہ کی جانب سے یوکرین کو ممکنہ عسکری اور دفاعی تعاون کی نوعیت پر تفصیلی غور کیا گیا۔ چوتھی دستاویز اقتصادی اور خوشحالی کے منصوبے کی مزید تیاری سے متعلق تھی، جس کا مقصد جنگ سے متاثرہ یوکرین کی تعمیرِ نو، معاشی بحالی اور طویل المدتی ترقی کے لیے عملی اقدامات تجویز کرنا ہے۔

امریکی ایلچی کے مطابق یوکرینی قیادت ایک منصفانہ اور پائیدار امن کے حصول کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کی اولین ترجیح ہلاکتوں کو روکنا، شہری آبادی کا تحفظ یقینی بنانا اور ملک میں استحکام کی بحالی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یوکرین جنگ کے بعد کے دور میں اپنی معیشت کی بحالی اور عوام کے لیے بہتر مستقبل کی راہ ہموار کرنا چاہتا ہے۔

وٹکوف نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ، یوکرین اور یورپی شراکت داروں کی مشترکہ ترجیح انسانی جانوں کا تحفظ، خطے میں سلامتی کا قیام اور یوکرین کی بحالی کے لیے موزوں حالات پیدا کرنا ہے۔ ان کے مطابق اگر سفارتی عمل اسی رفتار اور سنجیدگی سے جاری رہا تو آنے والے مہینوں میں قابلِ ذکر پیش رفت ممکن ہے۔

ماہرینِ بین الاقوامی امور کا کہنا ہے کہ فلوریڈا میں ہونے والی یہ بات چیت اس لیے بھی اہم ہے کہ اس میں روس اور یوکرین کے ساتھ علیحدہ علیحدہ مگر مربوط مذاکرات کیے گئے، جس سے امریکہ کی متوازن سفارتی حکمتِ عملی کی عکاسی ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اس طرزِ عمل سے فریقین کو اپنی پوزیشن واضح کرنے اور لچک دکھانے کا موقع ملا ہے۔

اگرچہ ابھی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں وقت لگ سکتا ہے، تاہم سٹیو وٹکوف کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سفارتی سطح پر جمود ٹوٹ چکا ہے۔ عالمی برادری اب ان مذاکرات کے عملی نتائج کی منتظر ہے، کیونکہ یوکرین تنازع نہ صرف یورپ بلکہ عالمی سلامتی اور معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔

مجموعی طور پر، امریکی ایلچی کی جانب سے مذاکرات کو “مثبت اور تعمیری” قرار دینا اس بات کی علامت ہے کہ یوکرین بحران کے حل کی جانب ایک سنجیدہ اور مربوط کوشش جاری ہے۔ اگر تمام فریقین اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھتے رہے تو یہ سفارتی عمل یوکرین میں دیرپا امن اور استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے، جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہوگی۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]