غیر قانونی تارکین وطن کے لیے رضاکارانہ ملک بدری کا نیا پروگرام: 3 ہزار ڈالر اور مفت ٹکٹ کے ساتھ واپسی کی سہولت

ٹرمپ انتظامیہ کی نئی حکمتِ عملی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں مقیم غیر قانونی تارکین وطن کے حوالے سے اپنی سخت گیر پالیسی میں ایک نیا اور حیران کن موڑ متعارف کروا دیا ہے۔ یو ایس ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ تمام افراد جو قانونی دستاویزات کے بغیر امریکا میں مقیم ہیں، اگر وہ سال کے اختتام تک رضاکارانہ طور پر اپنے ملک واپس جانے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو حکومت انہیں نقد رقم اور سفری سہولیات فراہم کرے گی۔
3 ہزار ڈالر اور مفت ہوائی ٹکٹ کی پیشکش ہوم لینڈ سکیورٹی کے اعلامیے کے مطابق، غیر قانونی تارکین وطن اگر ‘CBP One Home’ ایپ کے ذریعے خود کو ڈی پورٹ کرنے کے لیے رجسٹر کرتے ہیں، تو انہیں نہ صرف اپنے ملک واپسی کا مفت ہوائی ٹکٹ دیا جائے گا بلکہ ان کے ہاتھ میں 3 ہزار ڈالر کی رقم بھی تھمائی جائے گی۔ اس سے قبل یہ رقم ایک ہزار ڈالر تھی، جسے اب بڑھا کر تین گنا کر دیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس پیشکش سے فائدہ اٹھا سکیں۔
سخت انتباہ اور قانونی نتائج سیکرٹری ہوم لینڈ سکیورٹی کرسٹی نوم نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ یہ پیشکش محدود مدت کے لیے ہے۔ جو غیر قانونی تارکین وطن اس موقع کا فائدہ نہیں اٹھائیں گے اور خود کو ڈی پورٹ نہیں کریں گے، انہیں مستقبل میں گرفتاری اور جبری ملک بدری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایسے افراد پر امریکا میں دوبارہ داخلے پر مستقل پابندی بھی عائد کر دی جائے گی۔
رضاکارانہ واپسی کے اعداد و شمار حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال جنوری سے اب تک تقریباً 1.9 ملین غیر قانونی تارکین وطن پہلے ہی رضاکارانہ طور پر امریکا چھوڑ چکے ہیں۔ ہزاروں افراد نے حکومت کے ‘سی بی پی ہوم پروگرام’ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے ملکوں کو واپسی اختیار کی ہے۔ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ نقد رقم کی ترغیب سے اس عمل میں مزید تیزی آئے گی۔
پالیسی کے مقاصد اور تنقید اس اقدام کا مقصد امریکا کے امیگریشن سسٹم پر بوجھ کم کرنا اور جبری ملک بدری پر آنے والے بھاری اخراجات کو بچانا ہے۔ تاہم، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ناقدین اس پالیسی پر مختلف تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے غیر قانونی تارکین وطن اپنے ممالک میں جنگ یا غربت کی وجہ سے واپس نہیں جانا چاہتے، اور نقد رقم ان کے مسائل کا مستقل حل نہیں ہے۔
یوکرین روس مذاکرات پر پیش رفت، امریکی ایلچی نے بات چیت کو مثبت قرار دے دیا
مستقبل کی صورتحال ٹرمپ انتظامیہ کا یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ آنے والے ہفتوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کتنے مزید افراد اس 3 ہزار ڈالر کی پیشکش کو قبول کرتے ہیں اور امریکا چھوڑنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ ریاست پوری قوت سے امیگریشن قوانین پر عملدرآمد یقینی بنائے گی۔
One Response