چالان کی نقول تقسیم نہ ہو سکیں، عمران خان اور دیگر ملزمان کو دستاویزات فراہم نہ کی جا سکیں
9 مئی کے واقعات سے متعلق درج 11 مقدمات کی سماعت ایک بار پھر ملتوی کر دی گئی۔ دورانِ سماعت عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ آج بھی ان مقدمات میں چالان کی نقول ملزمان میں مکمل طور پر تقسیم نہیں ہو سکیں، جس کے باعث کارروائی کو آگے بڑھانا ممکن نہیں رہا۔ عدالت نے تمام مقدمات کی آئندہ سماعت 21 فروری تک ملتوی کر دی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو بھی ان 11 مقدمات میں چالان کی نقول فراہم نہیں کی جا سکیں۔ اسی طرح سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور، سینیٹر شبلی فراز اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب بھی چالان کی نقول وصول نہ کر سکے۔
سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کی حاضری جیل روبکار کے ذریعے لگائی گئی، جبکہ سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی بھی لاہور جیل سے روبکار کے ذریعے حاضری مکمل کی گئی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ تمام ملزمان کی جانب سے باضابطہ حاضری ریکارڈ پر لائی گئی تاہم چالان کی نقول وصول کرنے کے لیے مطلوبہ قانونی تقاضے پورے نہیں ہو سکے۔
عدالت کو سرکاری پراسیکیوٹر کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ 9 مئی کے ان 11 مقدمات میں چالان کی نقول عدالت میں موجود تھیں، تاہم جن ملزمان کو یہ نقول فراہم کی جانا تھیں وہ سماعت کے موقع پر عدالت میں موجود نہیں تھے، جس کی وجہ سے قانونی کارروائی مکمل نہ ہو سکی۔ پراسیکیوٹر کے مطابق ضابطہ فوجداری کے تحت چالان کی نقول کی تقسیم ملزمان کی موجودگی میں ہی ممکن ہے۔
ان 11 مقدمات میں 9 مئی کے پرتشدد واقعات سے متعلق سنگین نوعیت کے کیسز شامل ہیں جن میں جی ایچ کیو گیٹ نمبر 4 پر حملے کا مقدمہ، آرمی میوزیم پر حملے کا کیس، صدر کے علاقے میں واقع ایک حساس عمارت کو نذر آتش کرنے کا مقدمہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ میٹرو بس اسٹیشن کو جلانے اور ایک حساس ادارے کے دفتر پر حملے کے مقدمات بھی ان کیسز کا حصہ ہیں۔
عدالت کے روبرو پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق ان مقدمات میں ریاستی املاک کو نقصان پہنچانے، حساس تنصیبات پر حملے، اشتعال انگیزی اور امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ استغاثہ کا مؤقف ہے کہ یہ مقدمات نہایت سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور ان میں تیز رفتار کارروائی ضروری ہے، تاہم قانونی تقاضے پورے کیے بغیر سماعت کو آگے بڑھانا ممکن نہیں۔
سماعت کے موقع پر وکلائے صفائی اور سرکاری پراسیکیوٹر عدالت میں پیش ہوئے۔ وکلائے صفائی نے ایک بار پھر عدالت سے استدعا کی کہ انہیں اپنے مؤکل، چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ مقدمات سے متعلق قانونی حکمت عملی اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی جا سکے۔ وکلائے صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ مسلسل ملاقات کی اجازت نہ ملنے سے ملزمان کے دفاع کے حق پر اثر پڑ رہا ہے۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ وڈیو لنک سسٹم تاحال مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکا۔ سرکاری حکام کے مطابق تین ماہ گزرنے کے باوجود کمرہ عدالت اور جیل کورٹ کے درمیان وڈیو لنک سسٹم مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہا، جس کی وجہ سے ملزمان کی براہ راست شرکت اور قانونی کارروائی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ وکلائے صفائی نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی سے مقدمات میں غیر ضروری تاخیر ہو رہی ہے۔
وکلائے صفائی کا مزید کہنا تھا کہ اگر وڈیو لنک سسٹم فعال ہو جائے تو نہ صرف سماعت میں آسانی پیدا ہو گی بلکہ سیکیورٹی خدشات بھی کم ہوں گے اور ملزمان کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ متعلقہ حکام کو وڈیو لنک سسٹم فوری طور پر فعال کرنے کی ہدایت دی جائے۔
سرکاری پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ استغاثہ کی جانب سے تمام قانونی تقاضے مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور آئندہ سماعت تک چالان کی نقول کی تقسیم کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست ان مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی قسم کی غیر ضروری تاخیر سے بچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ریمارکس دیے کہ چالان کی نقول کی تقسیم فوجداری نظامِ انصاف کا ایک بنیادی مرحلہ ہے، جس کے بغیر مقدمے کی باقاعدہ سماعت ممکن نہیں۔ عدالت نے اس امر پر زور دیا کہ آئندہ سماعت تک اس قانونی تقاضے کو ہر صورت مکمل کیا جائے تاکہ مقدمات کو آگے بڑھایا جا سکے۔
بعد ازاں عدالت نے تمام 11 مقدمات کی سماعت 21 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ تاریخ پر ملزمان یا ان کے مجاز نمائندگان کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ وڈیو لنک سسٹم کے مسئلے کو فوری طور پر حل کرنے کے لیے متعلقہ حکام اقدامات کریں۔
واضح رہے کہ 9 مئی کے واقعات پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ کے اہم اور متنازع واقعات میں شمار ہوتے ہیں، جن کے بعد ملک بھر میں متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے۔ ان مقدمات کی عدالتی کارروائی کو عوام، میڈیا اور قانونی حلقے گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں، کیونکہ ان کے نتائج ملکی سیاست اور قانون کے نفاذ پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

