سبز کچھوؤں کی افزائش اور سمندری حیات کی بقا

سبز کچھوؤں کی افزائش
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

سبز کچھوؤں کی افزائش کا سیزن شروع، سندھ وائلڈ لائف کی کاوشیں

سبز کچھوؤں کی اہمیت

سبز کچھوے (Green Turtles) بحری ماحولیاتی نظام کا ایک اہم حصہ ہیں۔ یہ سمندری مخلوقات ساحلی علاقوں میں ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ پاکستان کے ساحلی علاقوں، خصوصاً کراچی کے ہاکس بے اور سینڈز پٹ، سبز کچھوؤں کے افزائش کے لیے مشہور ہیں۔ 2025-26 کے افزائش سیزن کے آغاز کے ساتھ، سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے 104 ننھے سبز کچھوؤں کو سمندر میں چھوڑ کر ایک نئی امید کو جنم دیا ہے۔

سبز کچھوؤں کی افزائش کا عمل

سبز کچھوؤں کی افزائش کا سیزن ہر سال اگست کے وسط سے شروع ہوتا ہے اور فروری کے آخر تک جاری رہتا ہے۔ اس دوران مادہ سبز کچھوے ساحل پر آتی ہیں اور رات کے وقت گہرے سکوت میں انڈے دینے کا عمل مکمل کرتی ہیں۔ مادہ کچھوا اپنی پچھلی ٹانگوں کی مدد سے 3 سے 3.5 فٹ گہرا گڑھا کھودتی ہے، جس میں وہ 100 سے 200 انڈے دیتی ہے۔ یہ انڈے 45 سے 60 دنوں میں ننھے کچھوؤں کی شکل میں نکلتے ہیں۔ سندھ وائلڈ لائف کے مطابق، اب تک 5500 انڈوں کو گھونسلوں میں محفوظ کیا گیا ہے، جن سے مزید سبز کچھوؤں کی تعداد میں اضافہ متوقع ہے۔

گھونسلے بنانے کا عمل

مادہ سبز کچھوے ساحل پر گھونسلے بنانے کے لیے خاص مقامات کا انتخاب کرتی ہیں۔ وہ ریت کے نرم حصوں کو ترجیح دیتی ہیں جہاں انڈوں کی حفاظت ممکن ہو۔ گھونسلے بنانے کا عمل رات کے وقت ہوتا ہے تاکہ شکاریوں اور انسانی مداخلت سے بچا جا سکے۔ اس عمل کے دوران مادہ کچھوا اپنے جسم کو ریت سے ڈھانپ لیتی ہے، جو اسے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

سندھ وائلڈ لائف کی کوششیں

سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ سبز کچھوؤں کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہے۔ محکمہ جنگلی حیات کے انچارج میرین ٹرٹل، اشفاق علی میمن کے مطابق، گزشتہ رات 104 ننھے سبز کچھوؤں کو سمندر میں چھوڑا گیا۔ یہ ننھے کچھوے اپنی زندگی کا سفر شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ محکمہ گھونسلوں کی حفاظت، انڈوں کی نگرانی، اور ننھے کچھوؤں کو سمندر تک پہنچانے کے لیے خصوصی اقدامات کر رہا ہے۔ ان کوششوں سے نہ صرف سبز کچھوؤں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ ساحلی ماحولیات کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔

سبز کچھوؤں کو درپیش خطرات

ماہرین کے مطابق، دو دہائیوں قبل پاکستان کے ساحلی علاقوں میں سمندری کچھوؤں کی سات اقسام پائی جاتی تھیں، لیکن اب صرف دو اقسام باقی ہیں۔ اولیو ریڈلی (زیتونی کچھوے) اب مکمل طور پر ناپید ہو چکے ہیں۔ 2010 کے بعد سے کراچی کے ساحلوں پر کوئی زندہ زیتونی مادہ کچھوا نظر نہیں آیا، البتہ مردہ حالت میں ان کی موجودگی رپورٹ ہوئی ہے۔ سبز کچھوؤں کو بھی متعدد خطرات کا سامنا ہے، جن میں شامل ہیں:

  • سمندری آلودگی: پلاسٹک اور دیگر کیمیائی مادوں کی آلودگی سبز کچھوؤں کی افزائش اور بقا کے لیے خطرہ ہے۔
  • تجارتی سرگرمیاں: ماہی گیروں کے جالوں میں پھنسنے سے کچھوؤں کی اموات ہوتی ہیں۔
  • تفریحی عوامل: ساحلی علاقوں میں سیاحت اور انسانی سرگرمیاں گھونسلوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

اولیو ریڈلی کی ناپیدی: ایک تشویشناک رجحان

ماہرین حیوانات و ماحولیات اولیو ریڈلی کچھوؤں کی ناپیدی پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ کچھوے ایک وقت میں کراچی کے سینڈز پٹ اور دیگر ساحلی علاقوں میں عام تھے، لیکن اب ان کی عدم موجودگی ایک بڑا سوال اٹھاتی ہے۔ ماہرین اس بات کی تحقیق کر رہے ہیں کہ آخر کیا وجوہات ہیں جن کی بنا پر اولیو ریڈلی نے ان ساحلوں سے منہ موڑ لیا۔ ممکنہ وجوہات میں ماحولیاتی تبدیلیاں، سمندری درجہ حرارت میں اضافہ، اور خوراک کی کمی شامل ہو سکتی ہیں۔

سبز کچھوؤں کے افزائشی مقامات

سبز کچھوے نہ صرف کراچی کے ہاکس بے اور سینڈز پٹ پر آتے ہیں بلکہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں جیسے کہ جیوانی، گوادر، اورماڑہ، پسنی، دھیران، فرنچ بیچ، مبارک ولیج، کیپ ماونزے، اور چرنا جزیرے پر بھی افزائش نسل کے لیے رخ کرتے ہیں۔ یہ مقامات اپنی قدرتی خوبصورتی اور ماحولیاتی اہمیت کے لیے مشہور ہیں۔ تاہم، ان علاقوں میں بھی انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے سبز کچھوؤں کے گھونسلوں کو خطرات لاحق ہیں۔

تحفظ کے لیے تجاویز

سبز کچھوؤں کے تحفظ کے لیے ماہرین اور مقامی کمیونٹیز کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کچھ اہم تجاویز درج ذیل ہیں:

  • ساحلی صفائی: ساحلوں کو پلاسٹک اور دیگر آلودگی سے پاک رکھنا ضروری ہے۔
  • آگاہی مہمات: مقامی ماہی گیروں اور سیاحوں کو سبز کچھوؤں کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے۔
  • گھونسلوں کی حفاظت: افزائش کے موسم میں گھونسلوں کی نگرانی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں۔
  • قانونی تحفظ: غیر قانونی شکار اور ماہی گیری کے جالوں پر پابندی عائد کی جائے۔

مستقبل کے امکانات

سبز کچھوؤں کی افزائش کے سیزن 2025-26 کے آغاز نے سمندری تحفظ کے لیے نئی امیدیں جگائی ہیں۔ سندھ وائلڈ لائف کی کوششوں سے نہ صرف ننھے کچھوؤں کو سمندر میں چھوڑا جا رہا ہے بلکہ ان کی بقا کے لیے مستقل نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔ اگر یہ کوششیں جاری رہیں تو سبز کچھوؤں کی تعداد میں اضافہ ممکن ہے، جو کہ سمندری ماحولیات کے لیے ایک مثبت اشارہ ہوگا۔

ننھے کچھوؤں کا سمندری سفر

ہر سال ننھے سبز کچھوے اپنے گھونسلوں سے نکل کر سمندر کی طرف اپنا سفر شروع کرتے ہیں۔ یہ سفر خطرات سے بھرپور ہوتا ہے، کیونکہ شکاری پرندے اور سمندری مخلوقات ان کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔ سندھ وائلڈ لائف کی ٹیمیں ان ننھے کچھوؤں کو سمندر تک محفوظ طریقے سے پہنچانے کے لیے رات بھر کام کرتی ہیں۔ اس سال چھوڑے گئے 104 ننھے کچھوؤں نے اپنا یہ سفر کامیابی سے شروع کیا ہے۔

خلیج الاسکا میں 2 سمندروں کا ملاپ: حیران کن سائنسی حقیقت

سبز کچھوؤں کا تحفظ پاکستان کے ساحلی ماحولیاتی نظام کے لیے ناگزیر ہے۔ سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی کوششیں قابل تحسین ہیں، لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے معاشرے کے ہر طبقے کی شمولیت ضروری ہے۔ اگر ہم مل کر کام کریں تو سبز کچھوؤں کی نسل کو ناپید ہونے سے بچایا جا سکتا ہے، اور ہمارے سمندر ایک بار پھر زندگی سے بھرپور ہو سکتے ہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]