محسن نقوی کا اہم اجلاس، اسلام آباد میں ڈیجیٹلائزیشن، نئے میگا منصوبے اور کریک ڈاؤن کا اعلان
محسن نقوی اجلاس اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت ایک اہم اور طویل اجلاس منعقد ہوا، جو تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہا۔ اس اجلاس میں وفاقی دارالحکومت میں جاری عوامی منصوبوں کی پیشرفت، نئے ترقیاتی منصوبوں، شہری سہولیات کی بہتری اور انتظامی اصلاحات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے تمام ریکارڈ کو 120 دن کے اندر مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے کا بڑا فیصلہ کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف شفافیت کو یقینی بنانا ہے بلکہ شہریوں کو اپنی درخواستوں، فائلوں اور دیگر معاملات کی صورتحال آن لائن معلوم کرنے کی سہولت فراہم کرنا بھی ہے۔ وزیر داخلہ نے اس حوالے سے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس سے کرپشن کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔
محسن نقوی نے اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسلام آباد میں کسی بھی غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹی کو کام کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں جو شہریوں کو غیر قانونی منصوبوں کے ذریعے نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس اقدام کو شہریوں کے تحفظ اور سرمایہ کاری کے محفوظ ماحول کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
اجلاس کے دوران بڑے ترقیاتی منصوبوں پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ نئے کنونشن سینٹر، ایکسپو سینٹر اور اسلام آباد ارینہ کی تعمیر کے لیے تین بین الاقوامی کمپنیوں کی پری کوالیفکیشن مکمل کر لی گئی ہے۔ وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ یہ تمام منصوبے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) سمٹ سے قبل مکمل کیے جائیں تاکہ پاکستان عالمی سطح پر ایک مثبت تاثر پیش کر سکے۔
مزید برآں، ایف-6 سیکٹر میں ایک جدید خدمت مرکز قائم کرنے کے لیے اراضی مختص کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ یہ مرکز شہریوں کو مختلف سرکاری خدمات ایک ہی جگہ فراہم کرے گا، جس سے وقت اور وسائل کی بچت ہوگی۔
اجلاس میں شہریوں کے لیے تفریحی سہولیات کو بہتر بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ وزیر داخلہ نے ٹاپ گالف، ہاٹ ایئر بیلون، زپ لائن، واٹر پارک اور امیوزمنٹ پارک جیسے جدید منصوبوں پر جلد از جلد کام شروع کرنے کی ہدایت دی۔ اس کے علاوہ ایف نائن پارک کو لندن کے مشہور ہائیڈ پارک کی طرز پر ترقی دینے کا منصوبہ بھی زیر غور آیا، جس سے شہریوں کو عالمی معیار کی تفریحی سہولیات میسر آئیں گی۔
قدرتی خوبصورتی سے مالا مال شاہدرہ ڈیم کے اطراف بھی تفریحی سہولیات کی فراہمی کے لیے جامع منصوبے طلب کیے گئے ہیں۔ اس سے نہ صرف سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ مقامی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
اجلاس میں سائبر کرائم اور آن لائن ہراسگی کے خلاف سخت اقدامات کی منظوری بھی دی گئی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں شہریوں کو آن لائن تحفظ فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور اس حوالے سے جدید قوانین اور ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔
کھیلوں کے فروغ کے لیے جدید سپورٹس کمپلیکس بنانے پر بھی زور دیا گیا، تاکہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلام آباد ایکسپریس وے اور کلب روڈ کی بیوٹیفکیشن اور لائٹنگ کے کام کو فوری شروع کرنے کی ہدایت دی گئی، جس سے شہر کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہوگا۔
اجلاس کے دوران سی ڈی اے میں حالیہ کرپشن اسکینڈل کو بے نقاب کرنے پر چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف اور ممبر اسٹیٹ زمان وٹو کو سراہا گیا۔ وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ کرپشن میں ملوث کسی بھی فرد کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
آخر میں چیئرمین سی ڈی اے نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد ایکسپریس وے پر سروس روڈ کی تعمیر کا منصوبہ پلاننگ ڈویژن کی منظوری کے بعد جلد شروع کیا جائے گا، جو ٹریفک کے مسائل کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
مجموعی طور پر محسن نقوی اجلاس اسلام آباد میں کیے گئے فیصلے وفاقی دارالحکومت کی ترقی، شفافیت، شہری سہولیات اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر ان منصوبوں پر بروقت اور مؤثر عمل درآمد کیا گیا تو اسلام آباد نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کا ایک جدید اور مثالی شہر بن سکتا ہے۔

