پاکستان کا ایران امریکا تنازع میں اہم کردار، امن اور استحکام اولین ترجیح قرار
پاکستان ایران امریکا ثالثی کے حوالے سے سکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ پاکستان ایک انتہائی پیچیدہ اور حساس معاملے کو سنبھال رہا ہے، جس میں اس کا بنیادی کردار ثالثی اور خطے میں امن کے فروغ کا ہے۔
اعلیٰ سکیورٹی حکام کے مطابق پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی سطح پر اہم کردار ادا کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عمل میں پاکستان کی اولین ترجیح امن، استحکام اور خطے کو ممکنہ بڑے تصادم سے بچانا ہے۔
فیلڈ مارشل کی دلچسپی کا محور
سکیورٹی ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل کی اس معاملے میں دلچسپی کا مقصد کسی سیاسی یا ذاتی فائدے سے وابستہ نہیں بلکہ صرف خطے میں امن اور استحکام کا قیام ہے۔
ذرائع نے کہا کہ اگر جنگ نہ رُکتی تو اس کے انتہائی سنگین نتائج سامنے آ سکتے تھے، جس سے پورا خطہ متاثر ہوتا۔
پاکستان کا کردار کیا تھا؟
ذرائع کے مطابق پاکستان نے ثالثی کے تمام سفارتی تقاضے پورے کیے اور مختلف ممالک کے ساتھ رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔
پاکستان کے ایران، امریکا، سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات سمیت مختلف ممالک کے ساتھ الگ الگ سفارتی تعلقات موجود ہیں، جنہیں مثبت انداز میں استعمال کیا گیا۔
علاقائی ممالک کا تعاون
سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ خطے میں امن کی کوششوں میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ:
- قطر
- سعودی عرب
- ترکیہ
- مصر
- متحدہ عرب امارات
نے بھی اہم کردار ادا کیا اور پاکستان کی امن کوششوں کا ساتھ دیا۔
ذرائع نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان “ہیڈلائن ڈپلومیسی” پر یقین نہیں رکھتا۔
ان کے مطابق بعض اوقات سفارتی کامیابیاں فوری طور پر منظرعام پر نہیں آتیں، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ عالمی برادری کو پاکستان کے کردار کا اندازہ ہو رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے بھارت دورے سے متعلق سوال پر سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ پاکستان اس معاملے کو تنگ نظری سے نہیں دیکھتا۔
ذرائع کے مطابق مختلف ممالک کے باہمی تعلقات ایک معمول کا سفارتی عمل ہیں اور پاکستان کے اپنے علاقائی اور بین الاقوامی تعلقات مضبوط ہیں۔
دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں
سکیورٹی بریفنگ کے دوران دہشتگردی کے خلاف جاری کارروائیوں کے اعداد و شمار بھی سامنے لائے گئے۔
ذرائع کے مطابق:
- 15 جون 2026 تک 32,092 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔
- دہشتگردی کے 2,170 واقعات رپورٹ ہوئے۔
- 64 فیصد واقعات خیبرپختونخوا میں پیش آئے۔
- 34 فیصد واقعات بلوچستان میں رپورٹ ہوئے۔
- 1,861 دہشتگرد مارے گئے۔
- 640 سکیورٹی اہلکار اور شہری شہید ہوئے۔
افغانستان اور خطے کی صورتحال
ذرائع نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے اور خطے میں استحکام کے لیے مثبت روابط ضروری ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان کا مسئلہ دہشتگرد عناصر سے ہے، عوام سے نہیں۔
کشمیر کے حوالے سے مؤقف
سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ پاکستان کا کشمیر کے معاملے پر مؤقف واضح ہے۔
ذرائع کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں اظہارِ رائے اور نقل و حرکت کی آزادی محدود ہے جبکہ کشمیری عوام کے جذبات کو دبایا نہیں جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے اور کشمیری عوام کی سیاسی خواہشات کی حمایت جاری رکھے گا۔
سندھ طاس معاہدے پر موقف
سکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف دوٹوک ہے۔
ان کے مطابق بھارت یکطرفہ طور پر معاہدے سے متعلق فیصلے نہیں کر سکتا اور پاکستان اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنا جانتا ہے۔
بلوچستان اور سکیورٹی چیلنجز
ذرائع نے الزام عائد کیا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے بعض پشت پناہ بلوچستان میں سرمایہ کاری اور ترقی کے عمل کو متاثر کرنا چاہتے ہیں۔
ان کے مطابق ریاست دہشتگردی اور بدامنی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی۔
سکیورٹی ذرائع نے بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کسی بھی ملاقات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
پاکستان ایران امریکا ثالثی کے حوالے سے سکیورٹی ذرائع کا مؤقف ہے کہ پاکستان نے ایک نہایت پیچیدہ سفارتی معاملے میں امن اور استحکام کے لیے فعال کردار ادا کیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کی ترجیح علاقائی امن، دہشتگردی کے خاتمے، سفارتی توازن اور قومی مفادات کا تحفظ ہے، جبکہ مختلف علاقائی تنازعات میں بات چیت اور سفارتکاری کو ہی مؤثر راستہ سمجھا جاتا ہے۔
READ MORE FAQS
سوال 1: سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کا کردار کیا ہے؟
جواب: پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی اور امن کے فروغ کا کردار ادا کر رہا ہے۔
سوال 2: فیلڈ مارشل کی دلچسپی کس چیز میں ہے؟
جواب: سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان کی دلچسپی صرف خطے میں امن اور استحکام کے قیام میں ہے۔
سوال 3: کن ممالک نے امن کوششوں میں تعاون کیا؟
جواب: قطر، سعودی عرب، ترکیہ، مصر اور متحدہ عرب امارات نے بھی کردار ادا کیا۔
سوال 4: کیا پاکستان ایران اور بھارت کے روابط پر اعتراض رکھتا ہے؟
جواب: ذرائع کے مطابق پاکستان اس معاملے کو تنگ نظری سے نہیں دیکھتا۔








