وزیراعظم کا کابینہ اجلاس سے خطاب: مشرق وسطیٰ جنگ سے پاکستان کی معیشت متاثر، تیل درآمدی بل میں بڑا اضافہ
اسلام آباد: شہباز شریف نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے پاکستان کی گزشتہ دو سالہ معاشی کاوشوں کو نقصان پہنچایا ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ملکی معیشت پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے قیام کے لیے سنجیدہ کوششیں کیں اور ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ طویل وقت تک جاری رہا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر برقرار ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں پاکستان کا ہفتہ وار تیل درآمدی بل 30 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
وزیراعظم کے مطابق اس صورتحال نے ملکی معاشی استحکام کی کوششوں کو متاثر کیا ہے، تاہم حکومت معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
وزیراعظم کا کابینہ اجلاس سے خطاب بتایا کہ پاکستان نے حال ہی میں ساڑھے تین ارب ڈالر کے بیرونی قرضے واپس کیے ہیں اور اس ضمن میں سعودی عرب کی قیادت کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم کا کابینہ اجلاس سے خطاب میں کہنا تھا کہ پبلک ٹرانسپورٹ سمیت دیگر شعبوں میں سبسڈی برقرار رکھنے کے لیے صوبوں کے ساتھ مشاورت جاری ہے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی تیل قیمتوں میں اضافہ اور علاقائی کشیدگی پاکستان کی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
"خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور آنے والے جمعہ کو ہمیں نئی قیمتوں کا تعین کرنا ہے۔ عالمی منڈیوں کی موجودہ صورتحال ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم الحمدللہ اجتماعی بصیرت اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے ہم نے اس صورتحال کو بہتر انداز میں سنبھالنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔… pic.twitter.com/k6DQH1cVaH
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) April 29, 2026