وزیراعظم کی ہدایت پر استثنیٰ کی مجوزہ ترمیم واپس، 27ویں آئینی ترمیم پر مشاورت جاری

وزیراعظم شہباز شریف کا استثنیٰ کی مجوزہ ترمیم واپس لینے کا حکم
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

وزیراعظم کی ہدایت پر استثنیٰ کی مجوزہ ترمیم واپس، 27ویں آئینی ترمیم پر مشاورت جاری، ترمیم سینیٹر انوشہ رحمٰن اور طاہر خلیل سندھو نے کمیٹی میں جمع کرائی تھی

اسلام آباد (رئیس الاخبار) — وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وزارتِ عظمیٰ کے عہدے کے لیے استثنیٰ کی مجوزہ ترمیم واپس لے لی گئی۔ یہ ترمیم سینیٹر انوشہ رحمٰن اور طاہر خلیل سندھو نے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں جمع کرائی تھی۔

ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس میں جاری اجلاس کے دوران سینیٹر انوشہ رحمٰن نے وزیراعظم کی ہدایت پر استثنیٰ کی مجوزہ ترمیم واپس لے لی، جس پر چیئرمین کمیٹی فاروق ایچ نائیک نے اس فیصلے کو سراہا۔ کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم کو آئینی استثنیٰ دینے کی تجویز پر غور کیا گیا تھا۔

وزیرِ قانون کا بیان

وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ وزیراعظم نے خود استثنیٰ کی مجوزہ ترمیم واپس لینے کی ہدایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر عہدوں کو دیے جانے والے استثنیٰ انتظامی نوعیت کے نہیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب تک 80 سے 85 فیصد ترامیم پر مشاورت مکمل ہو چکی ہے، جبکہ ایم کیو ایم، اے این پی اور بلوچستان عوامی پارٹی کی تجاویز پر غور باقی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ "بلوچستان اسمبلی کی نشستوں میں اضافے سے متعلق تجویز پر بھی غور ہوگا، جے یو آئی نے تین دن کا وقت مانگا تھا جو ممکن نہیں۔ مخالفت ووٹ کے ذریعے ہونی چاہیے، سیاست کے ذریعے نہیں۔”

وزیراعظم کا مؤقف

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر بیان میں کہا تھا کہ "آذربائیجان سے واپسی پر معلوم ہوا کہ چند سینیٹرز نے وزیراعظم کو استثنیٰ دینے کی ترمیم جمع کرائی ہے، جو کابینہ سے منظور شدہ مسودے کا حصہ نہیں تھی۔ میں نے اسے فوراً واپس لینے کی ہدایت کی۔”
انہوں نے واضح کیا کہ ایک منتخب وزیراعظم کو عدالت اور عوام دونوں کے سامنے مکمل طور پر جوابدہ رہنا چاہیے۔

پارلیمنٹ میں 27ویں آئینی ترمیم پر مشاورت، آئینی عدالت کے قیام پر اتفاق۔
پارلیمنٹ میں 27ویں آئینی ترمیم پر مشاورت مکمل، آئینی عدالت کے قیام کا فیصلہ۔

27ویں آئینی ترمیم کی دیگر شقیں

27ویں آئینی ترمیم کے مجوزہ بل میں وفاقی آئینی عدالت (Federal Constitutional Court) کے قیام، ہائی کورٹ ججوں کی تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلی، صوبائی کابینہ کے ارکان کی حد میں اضافہ اور عسکری قیادت کے ڈھانچے میں ترامیم شامل ہیں۔
مزید یہ کہ بل کی بعض شقوں میں اعلیٰ فوجی افسران کو تاحیات آئینی تحفظ دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جس کے تحت فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس یا ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدوں پر فائز افسران کو صرف آئین کے آرٹیکل 47 کے تحت ہی ہٹایا جا سکے گا۔

کابینہ کی منظوری اور اپوزیشن کا ردِعمل

وفاقی کابینہ نے ہفتے کے روز 27ویں آئینی ترمیم کے بل کی منظوری دے دی اور اسے خوش آئند قرار دیا، تاہم سینیٹ میں پیشی کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے ترامیم کی وسعت اور عجلت پر شدید اعتراض کیا۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]