این ایف سی اجلاس 18 نومبر کو ایک بار پھر ملتوی، صوبوں کو آگاہ کردیا

این ایف سی اجلاس 18 نومبر کو ایک بار پھر ملتوی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

این ایف سی اجلاس ملتوی، وفاقی حکومت نے صوبوں کو نئی ہدایات جاری کردیں

پاکستان کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کا مجوزہ اجلاس، جو 18 نومبر 2025 کو منعقد ہونا تھا، ایک بار پھر ملتوی کر دیا گیا۔
یہ اجلاس وفاق اور صوبوں کے درمیان مالیاتی وسائل کی تقسیم کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھا جا رہا تھا، تاہم وزارتِ خزانہ کی جانب سے اس کی نئی تاریخ کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا۔

این ایف سی اجلاس

اجلاس کی منسوخی کی تفصیلات

ذرائع وزارتِ خزانہ کے مطابق، این ایف سی اجلاس کے ملتوی ہونے کی اطلاع چاروں صوبوں کو دے دی گئی ہے۔
اجلاس نہ بلانے کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی، جس سے صوبائی حکومتوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔

وفاقی وزارت خزانہ نے چاروں صوبوں کی مشاورت سے 18 نومبر کی تاریخ تجویز کی تھی اور اس کے لیے وزیراعظم ہاؤس سے باضابطہ منظوری مانگی گئی تھی۔
تاہم، وزیرِاعظم ہاؤس کی جانب سے کوئی جواب نہ آنے کے باعث اجلاس ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ماضی میں بھی ملتوی ہوتا رہا این ایف سی اجلاس

یہ پہلا موقع نہیں جب این ایف سی اجلاس کو ملتوی کیا گیا ہو۔
اس سے قبل 29 اگست اور 10 نومبر کو بھی اجلاس بلانے کی تجویز دی گئی تھی، مگر مختلف وجوہات کے باعث وہ ممکن نہ ہو سکا۔
اگست کے اجلاس کو ملک کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں اور موسمی حالات کی وجہ سے ملتوی کرنا پڑا تھا۔

27ویں آئینی ترمیم سے متعلق تنازعہ

ذرائع کے مطابق، 27ویں آئینی ترمیم میں ایک شق ایسی تھی جس میں صوبوں کو مالیاتی وسائل سے حصہ کم نہ کرنے کا تحفظ ختم کرنے کی تجویز شامل تھی۔
یہ تجویز پیپلز پارٹی کی جانب سے سخت مخالفت کے بعد 27ویں ترمیم کے مسودے سے نکال دی گئی۔
ماہرین کے مطابق، اگر یہ شق برقرار رہتی تو اس سے صوبوں کے مالیاتی حصے میں نمایاں کمی آ سکتی تھی، جس پر سندھ اور خیبرپختونخوا نے شدید اعتراض اٹھایا تھا۔

این ایف سی کی اہمیت

قومی مالیاتی کمیشن (NFC) آئین کے تحت قائم ایک اہم آئینی ادارہ ہے جو وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ذمہ دار ہے۔
یہ کمیشن ہر پانچ سال بعد تشکیل دیا جاتا ہے اور اس میں وفاق اور چاروں صوبوں کے نمائندے شامل ہوتے ہیں۔

این ایف سی ایوارڈ پر سوالات – پاکستان میں وسائل کی منصفانہ تقسیم

این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو ان کے حصے کے فنڈز ملتے ہیں جو صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور دیگر ترقیاتی منصوبوں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔
تاہم، گزشتہ کئی برسوں سے نیا این ایف سی ایوارڈ طے نہ ہونے کے باعث صوبے مالیاتی عدم توازن کا شکار ہیں۔

صوبوں کا ردعمل

ذرائع کے مطابق، سندھ اور خیبرپختونخوا کے حکام نے اجلاس کی منسوخی پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
ایک صوبائی نمائندے کے مطابق:

"این ایف سی اجلاس کا بار بار ملتوی ہونا صوبوں کے مالیاتی منصوبوں کو متاثر کر رہا ہے۔ وفاق کو چاہیے کہ وہ جلد از جلد نئی تاریخ کا اعلان کرے۔”

پنجاب حکومت نے بھی اس صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے، تاہم وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ نئی تاریخ جلد طے کی جائے گی۔

مالیاتی پالیسی پر اثرات

ماہرین اقتصادیات کے مطابق، این ایف سی اجلاس کے مسلسل ملتوی ہونے سے وفاقی اور صوبائی مالیاتی پالیسیوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
وفاقی بجٹ کی تیاری اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے این ایف سی کا فعال ہونا ضروری ہے۔

ماہرِ اقتصادیات ڈاکٹر فیصل باری کا کہنا ہے:

“اگر این ایف سی کے اجلاس مسلسل مؤخر ہوتے رہے تو صوبوں کو فنڈز کی فراہمی میں تاخیر ہوگی، جس سے عوامی فلاحی منصوبے متاثر ہوں گے۔”

وزیراعظم ہاؤس کا موقف

وزیراعظم ہاؤس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس ملتوی کرنے کا فیصلہ “انتظامی وجوہات” کی بنا پر کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، نئے ایجنڈے کی تیاری اور 27ویں آئینی ترمیم کے کچھ نکات پر مزید غور کے بعد اجلاس کی نئی تاریخ طے کی جائے گی۔

ماہرین کا تجزیہ

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ این ایف سی اجلاس کا بار بار ملتوی ہونا وفاق اور صوبوں کے درمیان اعتماد کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔
اس سے صوبائی خودمختاری کے اصول کو نقصان پہنچ سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب صوبوں کو اپنے مالی وسائل کی اشد ضرورت ہے۔

مستقبل کی حکمتِ عملی

ذرائع کے مطابق، وزارتِ خزانہ آئندہ ہفتے ایک نیا مشاورتی نوٹیفکیشن جاری کرے گی جس میں این ایف سی اجلاس کی نئی تاریخ تجویز کی جائے گی۔
امکان ہے کہ اجلاس دسمبر کے دوسرے ہفتے میں منعقد کیا جائے۔
مزید برآں، وزارت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس بار اجلاس میں تمام صوبوں کے بجٹ نمائندے، وزارت قانون کے عہدیداران، اور پلاننگ کمیشن کے حکام بھی شریک ہوں گے۔

این ایف سی اجلاس میں آبادی کے حصے میں کمی اور نئے فارمولے کی تجویز

این ایف سی اجلاس کا بار بار ملتوی ہونا نہ صرف ایک انتظامی مسئلہ ہے بلکہ یہ ملک کی مالیاتی خودمختاری پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔
وفاق اور صوبوں کے درمیان مالیاتی توازن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ این ایف سی اجلاس جلد منعقد کیا جائے تاکہ قومی ترقی کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک طے ہو سکے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]