عالمی سطح پر جھٹکا: 4 دہائیوں کی محنت کے بعد تیار کیا گیا تیجس تباہ، تیجس طیارہ حادثہ نے فوری برآمدات کے امکانات ختم کر دیے
متحدہ عرب امارات کے اہم ترین ایونٹ، دبئی انٹرنیشنل ایئر شو کے دوران بھارت کے مقامی سطح پر تیار کردہ جنگی طیارے تیجس (Tejas) کو ایک سنگین حادثہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں طیارہ گر کر تباہ ہوگیا اور پائلٹ ہلاک ہوگیا۔ یہ تیجس طیارہ حادثہ بھارت کی فضائیہ کے لیے ایک بار پھر عالمی سطح پر رسوائی کا سبب بنا ہے، اور اس نے نئی دہلی کی دفاعی خود انحصاری اور طیارے کو عالمی منڈی میں برآمد کرنے کی جاری کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
دبئی ایئرشو میں تباہی
یہ دلخراش تیجس طیارہ حادثہ ایئر شو کے آخری روز پیش آیا جب طیارہ فضائی کرتب دکھا رہا تھا۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، طیارے کے تباہ ہونے کے فوری بعد ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا، لیکن بدقسمتی سے پائلٹ ہلاک ہو گیا۔ بھارتی فضائیہ نے بعد ازاں حادثے اور پائلٹ کی ہلاکت کی تصدیق کی اور بتایا کہ طیارے کو حادثہ مقامی وقت کے مطابق 2 بج کر 10 منٹ پر پیش آیا۔
ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہوا۔ خبر ایجنسی کے مطابق، یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس سے کچھ دن قبل ہی تیجس طیارے کا آئل لیک ہونے کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی تھی۔ اس تکنیکی مسئلے کے باوجود طیارے کا ایئرشو میں کرتب دکھانا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
دفاعی برآمدات کے امکانات پر پانی
دبئی ایئر شو دنیا بھر کے خریداروں اور دفاعی ماہرین کی توجہ کا مرکز ہوتا ہے، اور اسی فورم پر تیجس کا گر کر تباہ ہونا بھارت کی تجارتی کوششوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ماہرین نے کہا ہے کہ عوامی سطح پر ایسا نقصان بھارت کی ان کوششوں کو ‘دھندلا’ کر دے گا کہ وہ جیٹ کو بیرون ملک متعارف کرائے۔ یہ طیارہ بھارت کی چار دہائیوں کی محنت کے بعد تیار کیا گیا تھا۔ اس تیجس طیارہ حادثہ نے بھارت کی دفاعی صنعت کی صلاحیت پر براہ راست سوال کھڑا کر دیا ہے۔
امریکی میچل انسٹیٹیوٹ فار ایروسپیس اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈگلس اے برکی نے اس حادثے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک حادثہ بالکل الٹ اور ناکامی کا پیغام دیتا ہے، اور اب تیجس کو منفی تشہیر ملے گی۔ حال ہی میں ہندوستان ایرو ناٹکس لمیٹڈ (HAL) کو چھوڑنے والے ایک سابق ایگزیکٹو نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر واضح کہا کہ دبئی کا تیجس طیارہ حادثہ نے ‘فوری برآمدات کے امکانات ختم کر دیے’ ہیں۔
تیجس پروگرام کی سست روی اور مسائل
تیجس پروگرام کا آغاز 1980 کی دہائی میں کیا گیا تھا تاکہ پرانے سوویت ساختہ مگ-21 طیاروں کی جگہ لی جا سکے۔ اگرچہ مگ-21 کا آخری طیارہ ستمبر میں ریٹائر ہو چکا ہے، لیکن ہندوستان ایرو ناٹکس لمیٹڈ (HAL) کی جانب سے تیجس کی ترسیل سست رہی ہے۔
ریاستی ملکیت والی کمپنی HAL نے 180 جدید Mk-1A طیاروں کے لیے ملکی آرڈرز دیے ہیں، لیکن جی ای ایروسپیس کے انجن کی سپلائی چین کے مسائل کی وجہ سے ابھی تک ترسیل شروع نہیں ہو سکی ہے۔ یہ پیداواری اور تکنیکی مسائل، تیجس طیارہ حادثہ کے ساتھ مل کر، طیارے کے مستقبل کو مزید غیر یقینی بنا رہے ہیں۔
دبئی ائیر شو طیارہ حادثہ: بھارتی تیجاس جنگی طیارہ مظاہرے کے دوران تباہ
بھارت نے تیجس کو عالمی منڈی میں متعارف کرانے کے لیے ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کو ہدف بنایا تھا، اور ایچ اے ایل نے 2023 میں ملائیشیا میں بھی دفتر کھولا تھا۔ تاہم، تیجس طیارہ حادثہ کے بعد، سابق ایگزیکٹو نے کہا کہ آنے والے سالوں کے لیے توجہ ملکی استعمال کے لیے فائٹر کی پیداوار بڑھانے پر ہوگی نہ کہ برآمدات پر۔ یہ حادثہ بھارت کے لیے بین الاقوامی سطح پر ایک سفارتی اور تجارتی ہزیمت کا باعث بنا ہے۔