شکارپور پولیس مقابلہ: بڑا آپریشن، 8 ڈاکو ہلاک اور خاتون ڈی ایس پی زخمی

شکارپور پولیس مقابلہ میں 8 ڈاکو ہلاک اور ڈی ایس پی پارس بکھرانی زخمی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

شکارپور پولیس مقابلہ میں اہم کامیابی — ڈاکو ہلاک، ڈی ایس پی پارس بکھرانی زخمی

سندھ کے ضلع شکارپور میں ہونے والا تازہ شکارپور پولیس مقابلہ صوبے کی سکیورٹی تاریخ میں ایک بڑا واقعہ بن کر سامنے آیا ہے۔ پولیس نے منظم جرائم پیشہ گروہ کے خلاف بھرپور کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف خطرناک ڈاکوؤں کے گینگ کو نشانہ بنایا بلکہ کئی اہم جرائم کے سلسلے کو بھی توڑ کر رکھ دیا۔ اس مقابلے میں پولیس نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں 8 خطرناک ڈاکو ہلاک ہوئے اور ایک ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔

اس آپریشن میں جہاں پولیس نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، وہیں افسوس ناک طور پر دو ڈی ایس پیز سمیت کئی اہلکار بھی زخمی ہوئے، جن میں سب سے زیادہ توجہ کا مرکز ڈی ایس پی پارس بکھرانی ہیں جو بہادری سے مقابلہ کرتی رہیں لیکن گولی لگنے کے باعث زخمی ہو گئیں۔

پولیس آپریشن کیسے شروع ہوا؟

شکارپور گزشتہ کئی ماہ سے ڈاکوؤں کے ایک مخصوص جرائم پیشہ گروہ کے باعث سخت مشکلات کا شکار تھا۔ یہ گروہ نہ صرف بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان میں ملوث تھا بلکہ پولیس گشت پر فائرنگ جیسے سنگین واقعات بھی سامنے آتے رہے تھے۔

پولیس کو اطلاع ملی کہ یہ گروہ ایک خاص مقام پر موجود ہے، جس کے بعد شکارپور پولیس مقابلہ شروع ہوا۔ پولیس نے علاقے کو مکمل گھیرے میں لیا اور خصوصی کمانڈو ٹیموں کو بھی طلب کیا گیا۔

مقابلے کے دوران کیا ہوا؟

مقابلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ ڈاکوؤں نے جدید اسلحہ کے ساتھ پولیس پر شدید فائرنگ کی۔ پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے 8 ڈاکوؤں کو ہلاک کر دیا۔
ہلاک ہونے والے ڈاکوؤں میں:

  • امداد شیخ
  • شدن شیخ
  • شھمور شیخ
  • برکت شیخ

ان کی لاشیں جائے وقوع سے برآمد ہوئیں جبکہ ایک زخمی ڈاکو کو گرفتار کر کے تفتیش کے لیے منتقل کیا گیا ہے۔

یہ تمام افراد کئی مقدمات میں مطلوب تھے اور ان کے سر پر بھاری انعامات مقرر تھے۔

ڈی ایس پی پارس بکھرانی کی بہادری

اس شکارپور پولیس مقابلہ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں سندھ کی بہادر خاتون افسر ڈی ایس پی پارس بکھرانی نے انتہائی جرات مندی کا مظاہرہ کیا۔
مقابلے کے دوران انہیں گولی لگی اور وہ زخمی ہو گئیں۔

انہیں فوری طور پر مقامی اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن حالت تشویشناک ہونے پر ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کیا جا رہا ہے۔
ضلعی چیئرمین سید کمیل حیدر شاہ نے کہا:

“پارس بکھرانی سندھ کی بہادر بیٹی ہے، ہم ان کی ہمت کو سلام پیش کرتے ہیں۔”

سندھ پولیس کی جانب سے کامیابی کا اعتراف

سکھر ڈسٹرکٹ کونسل نے اس آپریشن کو سندھ پولیس کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔
ڈی ایس پی ظھور احمد سومرو اور دیگر زخمی اہلکاروں کو بھی طبی امداد دی گئی ہے۔

ضلعی چیئرمین نے مزید کہا:

“شکارپور پولیس نے سندھ پولیس کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔”

یہ آپریشن کیوں اہم ہے؟

اس شکارپور پولیس مقابلہ نے کئی اہم پہلوؤں کو صاف کر دیا ہے:

خطرناک ڈاکوؤں کا خاتمہ

جرائم پیشہ گروہ جو کئی وارداتوں میں ملوث تھا، اب ناکارہ ہو گیا ہے۔

عوام میں اعتماد

عوام میں پولیس کی ساکھ مضبوط ہوئی ہے۔

خواتین پولیس افسران کی بہادری

ڈی ایس پی پارس بکھرانی کا کردار پوری فورس کے لیے مثال بن گیا۔

جرائم پیشہ عناصر کے خلاف اگلے اقدامات

پولیس نے اعلان کیا ہے کہ جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف آپریشن جاری رہے گا۔
مزید علاقوں کی سرچنگ کی جا رہی ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مجرموں کے نیٹ ورک کو توڑا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر شہریوں نے پولیس اہلکاروں کی بہادری کو بے حد سراہا ہے۔
بہت سے صارفین نے ڈی ایس پی پارس بکھرانی کی جلد صحتیابی کی دعا بھی کی۔

سی ٹی ڈی نے را کے دہشتگرد گرفتار کیے، پنجاب بڑی تباہی سے بچ گیا

یہ شکارپور پولیس مقابلہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے متحد ہو کر کارروائی کریں تو جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ ممکن ہے۔
پولیس نے اپنی جان پر کھیل کر عوام کی حفاظت کو یقینی بنایا اور ثابت کیا کہ امن کے دشمنوں کے لیے سندھ کی سرزمین اب محفوظ نہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]