آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا دورہ سعودی عرب اور شاہ عبدالعزیز میڈل کا حصول: آئی ایس پی آر کی مکمل رپورٹ
یک تاریخی سنگ میل پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات عشروں پر محیط ہیں، لیکن حالیہ جنرل عاصم منیر کا دورہ سعودی عرب ان تعلقات کو ایک نئی بلندی پر لے گیا ہے۔ پاک فوج کے سربراہ کو ان کی غیر معمولی عسکری خدمات اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی ہم آہنگی کو فروغ دینے پر سعودی عرب کے اعلیٰ ترین اعزاز "کنگ عبدالعزیز میڈل” سے نوازا گیا ہے۔

اعلیٰ ترین عسکری اعزاز کی اہمیت آئی ایس پی آر کے مطابق، سعودی قیادت نے جنرل عاصم منیر کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، اسٹریٹجک وژن اور خطے میں امن و استحکام کے لیے ان کی کوششوں کا اعتراف کیا ہے۔ یہ اعزاز محض ایک تمغہ نہیں بلکہ اس اعتماد کی عکاسی ہے جو سعودی عرب کی قیادت پاکستان کی عسکری قیادت پر کرتی ہے۔ جنرل عاصم منیر کا دورہ سعودی عرب اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرتا ہے۔
دفاعی تعاون اور انسدادِ دہشت گردی اس دورے کے دوران اہم ملاقاتوں میں علاقائی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی حکام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے کردار کو سراہا ہے۔ جنرل عاصم منیر کا دورہ سعودی عرب ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانے میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے، جس کا مقصد دونوں افواج کے درمیان مشترکہ تربیت اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو بہتر بنانا ہے۔
سعودی قیادت کا اعتراف اور خیر سگالی سعودی قیادت نے آرمی چیف کے اس عزم کی تعریف کی کہ پاکستان حرمین الشریفین کے تحفظ اور سعودی عرب کی سلامتی کے لیے ہمیشہ صف اول میں رہے گا۔ جنرل عاصم منیر کا دورہ سعودی عرب کے دوران انہوں نے خادم الحرمین الشریفین اور ولی عہد محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا اور اس اعزاز کو دونوں ممالک کے عوام کے درمیان پائیدار محبت کی علامت قرار دیا۔
اسٹریٹجک ہم آہنگی کا نیا دور ماہرین کا ماننا ہے کہ جنرل عاصم منیر کا دورہ سعودی عرب مشرق وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے سعودی عرب کا تعاون اور سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان کا غیر متزلزل عزم، یہ دونوں عناصر خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر بیان: جہاد کا اختیار صرف ریاست کو حاصل ہے
جنرل عاصم منیر کا دورہ سعودی عرب پاکستان کی خارجہ اور دفاعی پالیسی کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ دورہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں اور دونوں ممالک مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔
2 Responses