قومی علما مشائخ کانفرنس: فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دوٹوک مؤقف، جہاد کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے
چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ریاست کے علاوہ کسی فرد، گروہ یا تنظیم کو جہاد کا حکم دینے یا فتویٰ جاری کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاد کا اعلان صرف ایک منظم اور خودمختار ریاست ہی کر سکتی ہے، اس کے علاوہ کسی بھی سطح پر دیا گیا حکم یا فتویٰ نہ صرف غیر قانونی بلکہ گمراہی کا باعث بنتا ہے۔
قومی علما و مشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اسلامی ممالک میں سے پاکستان کو محافظِ حرمین کا شرف عطا فرمایا ہے، جبکہ خادمِ حرمین کا اعزاز مملکتِ سعودی عرب کو حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستِ طیبہ اور ریاستِ پاکستان کے درمیان گہرا تعلق اور نمایاں مماثلت پائی جاتی ہے۔
چیف آف ڈیفنس فورسز کا کہنا تھا کہ ریاستِ طیبہ اور ریاستِ پاکستان دونوں کا قیام کلمۂ طیبہ کی بنیاد پر ہوا اور یہ محض اتفاق نہیں کہ دونوں ریاستوں کا قیام ماہِ رمضان المبارک میں عمل میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ریاستوں کے درمیان یہ مماثلت اس بات کا مظہر ہے کہ ربِ کائنات نے خادمِ حرمین اور محافظِ حرمین کا عظیم فریضہ ان ریاستوں کے سپرد کرنا تھا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اسلامی دنیا کے مقدس مقامات کے تحفظ کو اپنا دینی اور قومی فریضہ سمجھا ہے اور اس مشن میں پوری قوم افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملک کے دفاع کے ساتھ ساتھ امتِ مسلمہ کے اجتماعی مفادات کے تحفظ کے لیے بھی پرعزم ہیں۔
اپنے خطاب میں انہوں نے انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ آپریشن "بنیان المرصوص” کے دوران اللہ تعالیٰ کی مدد کو عملی طور پر محسوس کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن اتحاد، قربانی اور ایمان کی طاقت کا مظہر ہے، جس میں افواجِ پاکستان نے پیشہ ورانہ مہارت اور قومی جذبے کے ساتھ اہم کامیابیاں حاصل کیں۔
چیف آف ڈیفنس فورسز نے افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کی پشت پناہی سے دہشت گردی کے ذریعے پاکستان میں شہریوں اور معصوم بچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ فتنہ الخوارج کی مختلف تنظیمیں افغانستان سے پاکستان میں داخل ہو رہی ہیں، جن میں تقریباً 70 فیصد افراد افغان شہری ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ افغانستان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ فتنہ الخوارج کا ساتھ دیتا ہے یا پاکستان کے ساتھ امن اور تعاون کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔
انہوں نے علما اور مشائخ سے اپیل کی کہ وہ معاشرے میں اتحاد، برداشت اور درست دینی شعور کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنے اسلاف کی علمی اور فکری میراث کو ترک کیا، وہ زبوں حالی اور پسماندگی کا شکار ہو گئیں۔
آخر میں چیف آف ڈیفنس فورسز نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ ریاستی نظام کو کمزور کرنے والی سوچ، غیر ریاستی تشدد اور خود ساختہ فتوے معاشرے میں انتشار کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط ریاست، قانون کی بالادستی اور درست دینی رہنمائی ہی قوم کو ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔


One Response