اولمپک اسٹار کی بے بسی: ویٹ لیفٹر طلحہ طالب گیراج میں ٹریننگ کرنے پر مجبور

قومی ہیرو کی بے بسی: اولمپک اسٹار طلحہ طالب گوجرانوالہ کے ایک تنگ گیراج میں ٹریننگ کرنے پر مجبور
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ویٹ لیفٹر طلحہ طالب کا وزیراعظم سے مطالبہ: "سہولیات ملیں تو عالمی سطح پر میڈل جیت سکتا ہوں”

پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کرنے والے اسٹار ویٹ لیفٹر طلحہ طالب ان دنوں انتہائی کسمپرسی کی حالت میں ٹریننگ کرنے پر مجبور ہیں۔ 2021 کے ٹوکیو اولمپکس میں اپنی شاندار کارکردگی سے پوری قوم کے دل جیتنے والے ایتھلیٹ آج ایک کرائے کے گیراج میں اپنی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اولمپکس سے شہرت تک کا سفر

گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے ویٹ لیفٹر طلحہ طالب نے ٹوکیو اولمپکس 2021 میں 67 کلو گرام کیٹیگری میں پانچویں پوزیشن حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا تھا۔ بغیر کسی بین الاقوامی کوچ یا جدید سہولیات کے ان کی یہ کارکردگی پاکستان میں ویٹ لفٹنگ کے شعبے میں ایک نئی روح پھونکنے کے مترادف تھی۔

پابندی کا خاتمہ اور شاندار واپسی

گزشتہ چند سال ویٹ لیفٹر طلحہ طالب کے لیے آزمائش بھرے رہے۔ چار سال قبل ان پر قوت بخش ممنوعہ ادویات کے استعمال کے الزام میں پابندی عائد کی گئی تھی، جس کی وجہ سے ان کا قیمتی وقت ضائع ہوا۔ تاہم، ہمت نہ ہارتے ہوئے انہوں نے پابندی ختم ہوتے ہی کراچی میں منعقدہ نیشنل گیمز میں ایک بار پھر گولڈ میڈل جیت کر اپنی اہلیت ثابت کر دی۔

گیراج میں ٹریننگ اور حکومتی بے حسی

طلحہ طالب کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ تین سال سے ایک کرائے کے گیراج میں ٹریننگ کر رہے ہیں۔ ویٹ لیفٹر طلحہ طالب کے مطابق، مناسب جم اور جدید آلات کی کمی ان کی تیاریوں میں بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ انہیں بین الاقوامی معیار کی سہولیات فراہم کی جائیں۔

مستقبل کے اہداف اور عزمِ صمیم

اپنے مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ویٹ لیفٹر طلحہ طالب نے کہا کہ "مجھے چار سال ضائع ہونے کا دکھ ضرور ہے، لیکن میرا عزم اب بھی جوان ہے۔ اگر مجھے ٹریننگ کے لیے بہتر جم اور سہولیات مل جائیں تو میں کامن ویلتھ گیمز اور ایشین گیمز میں پاکستان کے لیے میڈل جیت کر سبز ہلالی پرچم بلند کر سکتا ہوں۔”

بھارتی بورڈ برہم: بی سی سی آئی انڈر 19 ٹیم کے کوچ اور کپتان کو طلب کرنے کا فیصلہ، شکست کی وجوہات پر جواب دہی

ویٹ لیفٹر طلحہ طالب جیسے باصلاحیت کھلاڑی کا گیراج میں ٹریننگ کرنا ہمارے اسپورٹس سسٹم پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کو عالمی سطح پر تمغے جیتنے ہیں تو طلحہ طالب جیسے ہیروز کو وہ تمام وسائل فراہم کرنے ہوں گے جو ایک عالمی چیمپئن کا حق ہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]