اسلام آباد بار ایسوسی ایشن انتخابات، لنچ سے اسلحہ نمائش تک سب پر پابندی
اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے آئندہ انتخابات کے پیشِ نظر الیکشن بورڈ کی جانب سے سخت ضابطہ اخلاق نافذ کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد انتخابی عمل کو شفاف، منصفانہ اور پرامن بنانا ہے۔ چیئرمین الیکشن بورڈ، قاضی رفیع الدین نے باقاعدہ طور پر انتخابی ضابطہ اخلاق جاری کرتے ہوئے تمام امیدواروں، ان کے حامیوں اور بار کے اراکین کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی کو یقینی بنائیں۔
الیکشن بورڈ کی جانب سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کے مطابق انتخابی مہم کے دوران کسی بھی قسم کی ضیافت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس پابندی میں لنچ، ناشتہ، ڈنر اور ہائی ٹی سمیت ہر قسم کی دعوت شامل ہے۔ الیکشن بورڈ کا مؤقف ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں انتخابی عمل پر اثرانداز ہوتی ہیں اور ووٹرز کو غیر منصفانہ طور پر متاثر کرنے کا سبب بن سکتی ہیں، جس سے شفافیت مجروح ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
چیئرمین الیکشن بورڈ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی امیدوار یا اس کے حامی کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اگر کسی امیدوار کے خلاف ضیافت یا مالی اثر و رسوخ کے استعمال کی شکایت موصول ہوئی تو اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں جرمانہ، نااہلی یا انتخابی مہم کی معطلی بھی شامل ہو سکتی ہے۔
اسی طرح الیکشن ڈے کے موقع پر اسلحہ کی نمائش پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ الیکشن بورڈ کے مطابق امیدواروں یا ان کے سپورٹرز کی جانب سے اسلحہ لانا یا اس کی نمائش کرنا نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے خوف و ہراس کی فضا پیدا ہوتی ہے جو ایک جمہوری عمل کے منافی ہے۔ اس پابندی کا مقصد ووٹنگ کے دن امن و امان کو برقرار رکھنا اور ووٹرز کو بلا خوف اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
ضابطہ اخلاق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ امیدواروں کو وکلاء کے گھروں میں جا کر ووٹ یا حمایت کے لیے کنوینس کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ الیکشن بورڈ کے مطابق اس قسم کی مہم ذاتی دباؤ یا غیر ضروری اثراندازی کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے اسے مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ امیدوار صرف قانونی اور اخلاقی دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنی انتخابی مہم چلا سکیں گے۔
مزید برآں، اسلام آباد کی کچہری اور جوڈیشل کمپلیکس میں لگائے گئے تمام انتخابی بینرز، پینافلیکس، پوسٹرز اور اسٹیکرز فوری طور پر ہٹانے کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔ الیکشن بورڈ نے تمام امیدواروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اندر اپنی انتخابی تشہیری مواد کو خود ہٹا لیں، بصورتِ دیگر انتظامیہ کی جانب سے کارروائی کی جائے گی اور اس کا ذمہ دار امیدوار کو ٹھہرایا جائے گا۔
الیکشن بورڈ کے مطابق عدالتوں اور جوڈیشل کمپلیکس کو انتخابی سرگرمیوں سے پاک رکھنا نہایت ضروری ہے تاکہ عدالتی ماحول کا تقدس برقرار رہے اور عام سائلین کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس ضمن میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
چیئرمین الیکشن بورڈ قاضی رفیع الدین نے وکلاء برادری پر زور دیا ہے کہ وہ جمہوری روایات کا خیال رکھتے ہوئے انتخابی عمل کو خوش اسلوبی سے مکمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ بار ایسوسی ایشن ایک باوقار ادارہ ہے اور اس کے انتخابات میں نظم و ضبط، برداشت اور اخلاقیات کا مظاہرہ انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کا مقصد کسی امیدوار کو محدود کرنا نہیں بلکہ تمام امیدواروں کو یکساں مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ اصل مقابلہ صلاحیت، کردار اور وکلاء کی فلاح و بہبود کے ایجنڈے پر ہو، نہ کہ مالی وسائل یا طاقت کے مظاہرے پر۔
اسلام آباد بار کے سینئر وکلاء نے بھی الیکشن بورڈ کے اقدامات کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں انتخابی ضیافتوں، غیر ضروری تشہیر اور دباؤ کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں، جس سے انتخابی عمل کی ساکھ متاثر ہوتی تھی۔ نئے ضابطہ اخلاق سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ نوجوان وکلاء کو بھی برابری کی بنیاد پر آگے آنے کا موقع ملے گا۔
بار کے کئی اراکین کا کہنا ہے کہ اگر ان پابندیوں پر سختی سے عملدرآمد کیا گیا تو یہ آئندہ برسوں کے لیے ایک مثبت مثال قائم کرے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن بورڈ صرف ضابطہ اخلاق جاری کرنے تک محدود نہ رہے بلکہ اس پر مکمل عملدرآمد بھی یقینی بنائے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے انتخابات وکلاء برادری میں خاصی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ منتخب قیادت نہ صرف وکلاء کے مسائل اجاگر کرتی ہے بلکہ عدالتی اصلاحات اور قانون کی بالادستی کے لیے بھی مؤثر کردار ادا کرتی ہے۔ ایسے میں شفاف اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آخر میں الیکشن بورڈ نے تمام امیدواروں اور ووٹرز سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کرتے ہوئے انتخابی عمل کو کامیاب بنائیں اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں فوری طور پر الیکشن بورڈ کو آگاہ کریں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔

