شیل کمپنی پاکستان سرمایہ کاری: 10 کروڑ ڈالر سے زائد کے منصوبے کی منظوری
اسلام آباد: عالمی توانائی کی معروف کمپنی شیل (Shell) نے پاکستان میں 10 کروڑ ڈالر سے زائد کی نئی سرمایہ کاری کا فیصلہ کر لیا ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم اور خوش آئند پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سرمایہ کاری کا مقصد پاکستان میں توانائی کے شعبے کو مزید مستحکم کرنا، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
یہ اہم پیش رفت وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ اور شیل کمپنی کے اعلیٰ سطحی وفد کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آئی، جس میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری تعاون اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران شیل کمپنی کے نمائندوں نے بتایا کہ کمپنی نے آئندہ چار سالوں میں پاکستان بھر میں فیول پمپس کی تعداد ایک ہزار سے زائد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس وقت ملک میں شیل کمپنی کے تقریباً 650 فیول پمپس فعال ہیں، جن میں مرحلہ وار اضافہ کیا جائے گا۔ اس توسیعی منصوبے کے تحت شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں جدید سہولیات سے آراستہ نئے فیول اسٹیشن قائم کیے جائیں گے۔
شیل کمپنی کے نمائندے کے مطابق یہ سرمایہ کاری نہ صرف کمپنی کے کاروباری نیٹ ورک کو وسعت دے گی بلکہ پاکستان کے توانائی کے انفراسٹرکچر کو بھی مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک بڑی مارکیٹ ہے جہاں ایندھن کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور شیل اس بڑھتی ہوئی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے طویل المدتی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔
وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ نے اس موقع پر کہا کہ حکومت پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری کو خوش آمدید کہتی ہے اور سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں شیل کمپنی کے سرمایہ کاری منصوبوں پر پیش رفت جاری ہے اور متعلقہ ادارے اس ضمن میں مکمل تعاون کر رہے ہیں۔
قیصر احمد شیخ کے مطابق شیل کمپنی کی جانب سے اسٹوریج سائٹ قائم کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے، جو مستقبل میں ایندھن کی محفوظ فراہمی اور سپلائی چین کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جدید اسٹوریج سہولیات نہ صرف کاروباری استعداد میں اضافہ کریں گی بلکہ ہنگامی حالات میں ایندھن کی دستیابی کو بھی یقینی بنائیں گی۔
وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ سرمایہ کاری بورڈ سرمایہ کاروں کو درپیش رکاوٹیں دور کرنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بی ایف سی (Business Facilitation Center) سنگل ونڈو آپریشن کے ذریعے سرمایہ کاروں کو ایک ہی جگہ تمام ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جس سے سرمایہ کاری اور کاروبار شروع کرنے کے عمل میں نمایاں آسانی پیدا ہوئی ہے۔
قیصر احمد شیخ کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانا اور غیر ملکی کمپنیوں کا اعتماد بحال رکھنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرمایہ کاری بورڈ سرمایہ کاروں کی مکمل معاونت کے عزم پر قائم ہے اور ہر سطح پر تعاون فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان کو خطے میں ایک پرکشش سرمایہ کاری منزل بنایا جا سکے۔
شیل کمپنی کے وفد نے ملاقات کے دوران سرمایہ کاری بورڈ کے تعاون کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔ کمپنی کے نمائندوں نے کہا کہ پاکستان میں کاروبار کے لیے فراہم کی جانے والی سہولیات اور حکومتی تعاون نے شیل کے اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے، جس کی بنیاد پر کمپنی نے اپنی سرمایہ کاری بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق شیل جیسی عالمی کمپنی کی جانب سے بھاری سرمایہ کاری کا فیصلہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سرمایہ کاری سے نہ صرف توانائی کے شعبے میں بہتری آئے گی بلکہ دیگر غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہو گا۔ اس کے علاوہ فیول پمپس کی تعداد میں اضافے سے مقامی سطح پر روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ توانائی کا شعبہ کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور اس میں سرمایہ کاری صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ کے نظام اور مجموعی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہے۔ شیل کے توسیعی منصوبے سے ملک کے دور دراز علاقوں میں بھی معیاری ایندھن کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
دوسری جانب کاروباری حلقوں نے بھی شیل کمپنی کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی کمپنیوں کی پاکستان میں موجودگی اور سرمایہ کاری میں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کا کاروباری ماحول بتدریج بہتر ہو رہا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھا جائے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو شیل کمپنی کی جانب سے پاکستان میں 10 کروڑ ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کا اعلان، فیول پمپس کی توسیع، اور اسٹوریج سہولیات قائم کرنے کا منصوبہ ملکی معیشت کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت اور نجی شعبے کے باہمی تعاون سے اگر یہ منصوبے کامیابی سے مکمل ہو جاتے ہیں تو اس کے مثبت اثرات طویل عرصے تک معیشت، روزگار اور توانائی کے شعبے پر مرتب ہوں گے۔

