محکمہ پاسپورٹس کی بڑی کامیابی، کئی برس بعد ایک سال میں سب سے زیادہ پاسپورٹس جاری
سال 2025 پاکستان کے محکمہ پاسپورٹس کے لیے ایک تاریخی اور ریکارڈ ساز سال ثابت ہوا، جس کے دوران ملک بھر میں لاکھوں شہریوں کو پاسپورٹس جاری کیے گئے۔ محکمہ پاسپورٹس کے مطابق سال 2025 میں مجموعی طور پر 55 لاکھ 72 ہزار 13 پاسپورٹس جاری کیے گئے، جو گزشتہ کئی برسوں کے مقابلے میں ایک نمایاں اور غیر معمولی اضافہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایک سال میں اتنی بڑی تعداد میں پاسپورٹس کا اجرا کئی سال بعد ریکارڈ کے طور پر سامنے آیا ہے۔
محکمہ پاسپورٹس کے مطابق پاسپورٹس کے اجرا میں یہ غیر معمولی اضافہ عوامی سہولتوں میں بہتری، دفاتر کے اوقات کار میں توسیع اور جدید نظام متعارف کرانے کا نتیجہ ہے۔ بڑھتی ہوئی بیرونِ ملک ملازمتوں، تعلیم، علاج اور سیاحت کی طلب کے باعث شہریوں کی بڑی تعداد نے پاسپورٹس کے لیے درخواستیں جمع کرائیں، جسے محکمہ پاسپورٹس نے مؤثر حکمت عملی کے تحت بروقت نمٹایا۔
اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے دوران نارمل کیٹیگری میں سب سے زیادہ پاسپورٹس جاری کیے گئے۔ اس کیٹیگری کے تحت 32 لاکھ 75 ہزار 263 پاسپورٹس جاری ہوئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بڑی تعداد میں شہریوں نے معمول کے طریقہ کار کے تحت پاسپورٹ حاصل کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ نارمل کیٹیگری میں درخواستوں کی بروقت تکمیل محکمہ پاسپورٹس کی کارکردگی میں بہتری کو ظاہر کرتی ہے۔
اسی طرح ارجنٹ کیٹیگری میں بھی بڑی تعداد میں پاسپورٹس جاری کیے گئے۔ محکمہ پاسپورٹس کے مطابق سال 2025 میں 18 لاکھ 39 ہزار 487 ارجنٹ پاسپورٹس کا اجرا کیا گیا۔ ارجنٹ کیٹیگری عموماً ان شہریوں کے لیے ہوتی ہے جنہیں فوری طور پر بیرونِ ملک سفر درپیش ہوتا ہے، جیسے ملازمت، تعلیم، علاج یا دیگر ہنگامی وجوہات۔ ارجنٹ درخواستوں کی زیادہ تعداد اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ شہری تیز تر اور مؤثر سہولتوں پر اعتماد کر رہے ہیں۔
محکمہ پاسپورٹس نے بتایا کہ فاسٹ ٹریک کیٹیگری میں بھی نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ اس کیٹیگری کے تحت 2 لاکھ 76 ہزار 789 پاسپورٹس جاری کیے گئے۔ فاسٹ ٹریک سہولت ان افراد کے لیے متعارف کرائی گئی ہے جو انتہائی کم وقت میں پاسپورٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ حکام کے مطابق فاسٹ ٹریک سروس کے آغاز سے نہ صرف عوام کو سہولت ملی بلکہ رش اور دباؤ کو بھی مؤثر انداز میں تقسیم کیا گیا۔
محکمہ پاسپورٹس کے حکام کا کہنا ہے کہ پاسپورٹس کے اجرا میں اس تاریخی اضافے کی ایک بڑی وجہ ملک کے مختلف شہروں میں 24 گھنٹے کھلے رہنے والے پاسپورٹ دفاتر ہیں۔ اس سہولت کے باعث شہریوں کو طویل قطاروں اور بار بار دفاتر کے چکر لگانے سے نجات ملی۔ خاص طور پر بڑے شہروں جیسے کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، فیصل آباد اور پشاور میں چوبیس گھنٹے سروس فراہم کرنے سے درخواستوں کی بروقت تکمیل ممکن ہوئی۔
حکام کے مطابق جدید ٹیکنالوجی، آن لائن اپائنٹمنٹ سسٹم، بائیومیٹرک تصدیق اور ڈیجیٹل ریکارڈ مینجمنٹ نے بھی پاسپورٹ اجرا کے عمل کو تیز اور شفاف بنایا۔ شہری اب آن لائن اپائنٹمنٹ لے کر مقررہ وقت پر دفتر پہنچتے ہیں، جس سے وقت کی بچت اور نظام میں نظم و ضبط پیدا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ عملے کی تربیت اور نگرانی کے نظام کو بھی بہتر بنایا گیا ہے۔
محکمہ پاسپورٹس نے بتایا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے گئے، جس کے نتیجے میں اوورسیز پاکستانیوں کو اپنے سفری دستاویزات کے حصول میں آسانی ہوئی۔ سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں اضافی کاؤنٹرز اور عملہ تعینات کیا گیا، تاکہ بیرونِ ملک سے آنے والی درخواستوں کو بروقت نمٹایا جا سکے۔
عوامی حلقوں کی جانب سے پاسپورٹ دفاتر کی کارکردگی میں بہتری کو سراہا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اب پاسپورٹ کے حصول کا عمل نسبتاً آسان، تیز اور شفاف ہو گیا ہے۔ کئی شہریوں نے 24 گھنٹے سروس اور فاسٹ ٹریک سہولت کو ایک مثبت اور قابلِ تعریف قدم قرار دیا ہے۔
محکمہ پاسپورٹس کے مطابق مستقبل میں بھی عوامی سہولتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا، نئے دفاتر قائم کیے جائیں گے اور عملے کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ بڑھتی ہوئی طلب کو بروقت پورا کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ شکایات کے ازالے کے نظام کو بھی مزید فعال بنایا جا رہا ہے۔
مجموعی طور پر سال 2025 میں پاسپورٹس کے اجرا کا یہ ریکارڈ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ادارے مؤثر منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی اور عوام دوست پالیسیوں پر عمل کریں تو بڑے انتظامی چیلنجز پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ محکمہ پاسپورٹس کی اس کارکردگی نے نہ صرف عوام کا اعتماد بحال کیا ہے بلکہ ریاستی اداروں کی مجموعی ساکھ میں بھی بہتری پیدا کی ہے۔


One Response