پولیو کیسز پاکستان: بنوں اور وزیرستان میں 2 نئے کیسز، تعداد 3 ہو گئی

پولیو کیسز پاکستان بچوں کو پولیو ویکسین قطرے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

خیبرپختونخوا میں پولیو کے نئے کیسز، بچوں میں وائرس کی تصدیق

پولیو کیسز پاکستان ایک بار پھر تشویش کا باعث بن گئے ہیں، جہاں خیبرپختونخوا کے علاقوں بنوں اور شمالی وزیرستان سے پولیو کے دو نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ پیش رفت ملک میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے لیے ایک نیا چیلنج بن کر سامنے آئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) اسلام آباد کی لیبارٹری نے ان کیسز میں وائلڈ پولیو وائرس کی تصدیق کر دی ہے۔ متاثرہ بچوں میں ایک 5 ماہ کی بچی اور دوسری 2 سال کی بچی شامل ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پولیو کا خطرہ اب بھی کم عمر بچوں کے لیے انتہائی سنگین ہے۔

دو نئے کیسز سامنے آنے کے بعد پولیو کیسز پاکستان کی مجموعی تعداد رواں سال بڑھ کر 3 ہو گئی ہے۔ اس سے قبل سال 2026 کا پہلا کیس سجاول (سندھ) میں رپورٹ ہوا تھا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اگرچہ کیسز کی تعداد کم ہے، لیکن وائرس ابھی بھی موجود ہے اور کسی بھی وقت پھیل سکتا ہے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پولیو ایک انتہائی خطرناک اور متعدی بیماری ہے جو بچوں کو عمر بھر کے لیے معذور بنا سکتی ہے۔ اگر بروقت ویکسینیشن نہ کی جائے تو یہ وائرس تیزی سے پھیل سکتا ہے، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں صحت کی سہولیات محدود ہیں۔

پولیو کیسز پاکستان کے پیش نظر حکومتی اداروں نے فوری اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (EOC) کے مطابق رواں ماہ ملک بھر کے مخصوص اضلاع میں خصوصی انسدادِ پولیو مہم چلائی جائے گی، جس کے دوران تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

یہ مہم خاص طور پر ان علاقوں پر مرکوز ہوگی جہاں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ زیادہ ہے، جیسے کہ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ کے بعض اضلاع۔ اس مہم میں ہزاروں ہیلتھ ورکرز حصہ لیں گے، جو گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین فراہم کریں گے۔

پولیو کیسز پاکستان کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ عوامی آگاہی کا بھی ہے۔ بعض علاقوں میں والدین کی جانب سے ویکسینیشن سے انکار یا عدم تعاون بھی پولیو کے پھیلاؤ کا سبب بنتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے شعور اجاگر کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو ویکسین دی جا سکے۔

حکومت اور بین الاقوامی ادارے کئی سالوں سے پولیو کے خاتمے کے لیے کام کر رہے ہیں، اور پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں ابھی تک پولیو مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا۔ اس کے باوجود گزشتہ برسوں میں کیسز کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔

پولیو کیسز پاکستان میں حالیہ اضافہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اس بیماری کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ویکسینیشن مہم کو مؤثر طریقے سے جاری رکھا جائے اور عوامی تعاون حاصل ہو تو اس بیماری کا مکمل خاتمہ ممکن ہے۔

پولیو سے بچاؤ کا واحد مؤثر طریقہ ویکسینیشن ہے۔ ہر بچے کو بار بار پولیو کے قطرے پلانا ضروری ہے تاکہ اس کے جسم میں وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو سکے۔ اسی لیے حکومت بار بار انسداد پولیو مہمات کا انعقاد کرتی ہے۔

پولیو کیسز پاکستان کے تناظر میں والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو ہر مہم کے دوران پولیو کے قطرے ضرور پلائیں اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔ یہ قطرے مکمل طور پر محفوظ ہیں اور بچوں کی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پولیو کیسز پاکستان ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے حکومت، صحت کے اداروں اور عوام سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ اگر ہم سب اپنی ذمہ داری ادا کریں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان بھی پولیو سے مکمل طور پر پاک ہو جائے گا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]