پمز اسپتال بائیوپسی کیس ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے خاتون کی ہلاکت پر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم

پمز اسپتال بائیوپسی کیس (PIMS Hospital Biopsy Case)
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پمز اسپتال بائیوپسی کیس غلط بائیوپسی سے ہلاکت کے معاملے پر 2 رکنی تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل

وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے طبی ادارے پمز اسپتال میں ایک سنگین واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں مبینہ طور پر ڈاکٹروں کی غفلت کی وجہ سے ایک خاتون جان کی بازی ہار گئی۔ اس پمز اسپتال بائیوپسی کیس نے طبی حلقوں اور عوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ انتظامیہ نے معاملے کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

واقعے کا پس منظر اور مبینہ غفلت

یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب پمز اسپتال لائی گئی خاتون مریضہ عابدہ پروین کے پھیپھڑوں کی بائیوپسی کی جانی تھی، لیکن مبینہ طور پر طبی عملے نے پھیپھڑوں کے بجائے جگر کی بائیوپسی کر دی۔ اس سنگین غلطی کے نتیجے میں خاتون کی حالت بگڑ گئی اور وہ دم توڑ گئیں۔ پمز اسپتال بائیوپسی کیس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ عملے کی اس لاپرواہی نے ایک قیمتی زندگی چھین لی۔

فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی تشکیل

اس واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے پمز اسپتال کی انتظامیہ نے دو رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ ڈپٹی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، ایچ او ڈی اون کالوجی ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ڈاکٹر قاسم محمود بٹر کو اس کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ ان کے ہمراہ ڈائریکٹر ایمرجنسی ڈاکٹر شرجیل ظہیر بطور ممبر اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے۔ یہ کمیٹی پمز اسپتال بائیوپسی کیس کے ہر پہلو کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

تحقیقات کا دائرہ اور وقت کی پابندی

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ کمیٹی پلمونولوجی ڈیپارٹمنٹ کے ڈاکٹرز اور متعلقہ عملے کی مبینہ غفلت کی تحقیقات کرے گی۔ کمیٹی کو یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ محض 24 گھنٹے کے اندر اندر اپنی مکمل تحقیقاتی رپورٹ اور تجاویز ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پمز اسپتال کو جمع کرائے۔ پمز اسپتال بائیوپسی کیس کی یہ رپورٹ ذمہ داروں کے خلاف قانونی اور محکمانہ کارروائی کی بنیاد بنے گی۔

اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی (IHRA) کا ایکشن

اس معاملے پر صرف اسپتال انتظامیہ ہی نہیں بلکہ وفاقی ریگولیٹری ادارہ آئی ایچ آر اے بھی متحرک ہے۔ متوفی خاتون کے بیٹے کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے آئی ایچ آر اے نے پہلے ہی تحقیقات کا آغاز کر رکھا ہے۔ پمز اسپتال بائیوپسی کیس میں متعلقہ ڈاکٹر، محمد اسرار سے سات روز کے اندر تفصیلی جواب طلب کیا گیا ہے تاکہ حقائق تک پہنچا جا سکے۔

انصاف کی امید اور عوامی مطالبہ

مریضہ عابدہ پروین کے اہل خانہ نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پمز اسپتال بائیوپسی کیس کی تحقیقات کو شفاف بنایا جائے اور کسی بھی بااثر شخصیت کے دباؤ کو قبول نہ کیا جائے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات طبی نظام پر سے عوام کا اعتماد کم کرتے ہیں، لہٰذا ایسے کیسز میں کڑی سزا کا تعین ہونا چاہیے۔

اسلام آباد روبوٹک سرجری: پمز اسپتال میں پہلا کامیاب آپریشن مکمل

آنے والے چند گھنٹے اس پمز اسپتال بائیوپسی کیس میں انتہائی اہم ہیں، کیونکہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ سے ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ اس ہلاکت کا اصل ذمہ دار کون ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پمز اسپتال بائیوپسی کیس میں کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی اور میرٹ پر فیصلہ ہوگا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]