پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، پہلے ٹریڈنگ سیشن کا منفی اختتام
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز سرمایہ کاروں کو شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا، جہاں پہلے ٹریڈنگ سیشن کا اختتام مندی پر ہوا۔ مارکیٹ میں دن بھر اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہا، تاہم اختتامی لمحات میں فروخت کے دباؤ نے انڈیکس کو منفی زون میں دھکیل دیا۔ ہنڈریڈ انڈیکس 883 پوائنٹس کی نمایاں کمی کے ساتھ ایک لاکھ 84 ہزار 659 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔
ٹریڈنگ کے آغاز کے ساتھ ہی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال نمایاں دکھائی دی۔ سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے رہے اور بڑے پیمانے پر فروخت کے باعث انڈیکس دباؤ میں آگیا۔ ایک موقع پر ہنڈریڈ انڈیکس 922 پوائنٹس کی کمی سے ایک لاکھ 84 ہزار 620 پوائنٹس کی نچلی سطح تک گر گیا، جو دن کی کم ترین سطح تصور کی گئی۔ اس دوران مارکیٹ میں خوف و ہراس کی کیفیت بھی دیکھی گئی، جس کے باعث سرمایہ کاروں نے نئی سرمایہ کاری سے گریز کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دن بھر مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ اگرچہ ابتدا میں مندی غالب رہی، تاہم کچھ دیر کے لیے خریداری کا رجحان بھی سامنے آیا جس کے باعث ہنڈریڈ انڈیکس میں 637 پوائنٹس تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس مختصر بحالی کے دوران انڈیکس 186180 پوائنٹس کی سطح تک ٹریڈ کرتا رہا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں اب بھی خریدار موجود ہیں، تاہم وہ طویل مدتی اعتماد کے فقدان کے باعث کھل کر سرمایہ کاری کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں مندی کی بنیادی وجوہات میں معاشی غیر یقینی صورتحال، سرمایہ کاروں کا کمزور اعتماد، اور عالمی مارکیٹس کے منفی رجحانات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مہنگائی، شرح سود، روپے کی قدر، اور آئندہ مالیاتی پالیسی سے متعلق خدشات نے بھی سرمایہ کاروں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔ کاروباری طبقہ اس وقت واضح معاشی سمت کا منتظر ہے، جس کے باعث مارکیٹ میں فیصلہ کن خریداری دیکھنے میں نہیں آ رہی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ابتدائی سیشن میں کچھ منتخب شعبوں میں خریداری دیکھی گئی، تاہم مجموعی طور پر مارکیٹ پر فروخت کا دباؤ حاوی رہا۔ خاص طور پر بینکنگ، سیمنٹ، تیل و گیس، اور پاور سیکٹر کے شیئرز میں منافع سمیٹنے کا رجحان غالب رہا، جس نے انڈیکس کو نیچے کی جانب دھکیل دیا۔ بڑی کمپنیوں کے شیئرز میں فروخت کے باعث مارکیٹ کا مجموعی وزن کم ہوا اور انڈیکس منفی زون میں چلا گیا۔
کاروباری حجم کے حوالے سے بات کی جائے تو اگرچہ کچھ شیئرز میں ٹریڈنگ سرگرمی بہتر رہی، تاہم مجموعی طور پر سرمایہ کاروں کی دلچسپی محدود دکھائی دی۔ چھوٹے سرمایہ کار تذبذب کا شکار رہے جبکہ بڑے ادارہ جاتی سرمایہ کار بھی محتاط نظر آئے۔ مارکیٹ میں یہ تاثر غالب رہا کہ سرمایہ کار فوری طور پر کسی بڑے فیصلے کے بجائے حالات واضح ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ مارکیٹ میں دن کے دوران آنے والی عارضی تیزی اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ایس ایکس میں صلاحیت موجود ہے، تاہم مستقل بحالی کے لیے مثبت معاشی اشاریوں اور پالیسی سطح پر واضح اقدامات کی ضرورت ہے۔ جب تک سرمایہ کاروں کو معیشت کے مستقبل کے حوالے سے واضح پیغام نہیں ملتا، تب تک مارکیٹ میں اسی طرح کا غیر یقینی رجحان برقرار رہنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب، کچھ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ موجودہ سطحیں طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے پرکشش ہو سکتی ہیں، تاہم اس کے لیے صبر اور محتاط حکمت عملی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق مارکیٹ میں اصلاح (Correction) کا عمل جاری ہے اور ایسے ادوار میں جلد بازی کے فیصلے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ مضبوط بنیادوں والی کمپنیوں پر توجہ دیں اور افواہوں کی بنیاد پر فیصلے کرنے سے گریز کریں۔
مارکیٹ کے اختتام پر مجموعی تاثر یہی رہا کہ اگرچہ دن کے دوران کچھ مثبت لمحات بھی دیکھنے میں آئے، مگر اختتامی سیشن میں فروخت کے دباؤ نے تمام gains کو زائل کر دیا۔ ہنڈریڈ انڈیکس کا 883 پوائنٹس کی کمی سے بند ہونا اس بات کی علامت ہے کہ مارکیٹ کو اس وقت مضبوط سہارے کی ضرورت ہے۔
آئندہ سیشنز کے حوالے سے ماہرین محتاط انداز میں پرامید ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر معاشی محاذ پر کوئی مثبت خبر سامنے آتی ہے، یا عالمی مارکیٹس میں بہتری دیکھنے میں آتی ہے، تو پی ایس ایکس میں بھی تیزی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں مارکیٹ کا رجحان محتاط اور غیر یقینی ہی رہے گا۔
آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا پہلا ٹریڈنگ سیشن سرمایہ کاروں کے لیے آزمائش کا باعث رہا۔ شدید اتار چڑھاؤ، مندی کا دباؤ، اور کمزور اعتماد نے مارکیٹ کو منفی سمت میں دھکیل دیا۔ اب تمام نظریں آنے والے دنوں پر مرکوز ہیں، جہاں معاشی پالیسیوں اور مالیاتی فیصلوں کا کردار مارکیٹ کی سمت کا تعین کرے گا۔


One Response