سرمایہ کاروں کے اعتماد سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ توڑ تیزی برقرار
سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بحالی کے باعث پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تاریخی اور ریکارڈ توڑ تیزی کا سلسلہ پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔ کاروباری ہفتے کے تیسرے روز بھی مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز سے ہی زبردست مثبت رجحان دیکھنے میں آیا، جس کے نتیجے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا ہنڈرڈ انڈیکس ایک نئی نفسیاتی حد عبور کرتے ہوئے ایک لاکھ 86 ہزار پوائنٹس سے بھی آگے نکل گیا۔ یہ صورتحال نہ صرف سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے بلکہ ملکی معیشت کے مستقبل کے حوالے سے ایک حوصلہ افزا پیغام بھی دے رہی ہے۔
کاروبار کے آغاز پر ہی مارکیٹ میں خریداری کا دباؤ نمایاں رہا، جس کے باعث چند ہی لمحوں میں ہنڈرڈ انڈیکس سینکڑوں پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ تیزی سے اوپر کی جانب بڑھنے لگا۔ ٹریڈنگ کے دوران مجموعی طور پر 1700 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 86 ہزار 768 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا، جو پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری روز بھی مارکیٹ میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آئی تھی، جب کاروبار کے اختتام پر 2653 پوائنٹس کے بڑے اضافے کے ساتھ ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 85 ہزار 62 پوائنٹس کی تاریخی سطح پر بند ہوا تھا۔ مسلسل دوسرے دن بھی اسی رفتار سے تیزی کا برقرار رہنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سرمایہ کار مستقبل کے حوالے سے پُرامید ہیں اور مارکیٹ میں سرمایہ کاری کو ایک محفوظ اور منافع بخش موقع سمجھ رہے ہیں۔
ماہرینِ معیشت اور اسٹاک مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اس ریکارڈ توڑ تیزی کی بنیادی وجہ سرمایہ کاروں کا بحال ہوتا ہوا اعتماد، معاشی استحکام کی امیدیں، پالیسیوں میں تسلسل اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ مثبت پیش رفت ہے۔ اس کے علاوہ توانائی، بینکنگ، سیمنٹ اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں بہتری کی توقعات نے بھی مارکیٹ کو سہارا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں حکومتی معاشی اقدامات، مالی نظم و ضبط، درآمدات و برآمدات میں توازن اور افراطِ زر میں بتدریج کمی جیسے عوامل نے مارکیٹ کے جذبات کو مثبت سمت میں موڑا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ اور مقامی سرمایہ کاروں کی بھرپور شرکت نے بھی اس تیزی کو مزید تقویت دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر خریداری دیکھنے میں آ رہی ہے اور فروخت کا دباؤ نہ ہونے کے برابر ہے۔
کاروباری حلقوں کا ماننا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں اس غیر معمولی تیزی کے اثرات مجموعی معیشت پر بھی مثبت انداز میں مرتب ہوں گے۔ سرمایہ کاری میں اضافہ نہ صرف صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دے گا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومتی ریونیو میں اضافے کی امید بھی کی جا رہی ہے، جو معاشی ترقی کے لیے ایک خوش آئند اشارہ ہے۔
دوسری جانب زرمبادلہ کی مارکیٹ میں بھی قدرے استحکام دیکھنے میں آیا ہے۔ انٹر بینک میں امریکی ڈالر کی قدر میں 2 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد ڈالر 280.07 روپے سے کم ہو کر 280.05 روپے پر آ گیا۔ اگرچہ یہ کمی معمولی ہے، تاہم ماہرین اسے کرنسی مارکیٹ میں بہتری اور دباؤ میں کمی کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق ڈالر کی قدر میں استحکام یا معمولی کمی کا براہِ راست اثر اسٹاک مارکیٹ پر بھی پڑتا ہے، کیونکہ کرنسی کے اتار چڑھاؤ سے سرمایہ کاروں کے فیصلے متاثر ہوتے ہیں۔ روپے کی قدر میں استحکام سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط کرتا ہے اور غیر یقینی صورتحال میں کمی لاتا ہے، جس کا فائدہ براہِ راست اسٹاک مارکیٹ کو پہنچتا ہے۔
کاروباری برادری کا کہنا ہے کہ اگر یہی مثبت رجحان برقرار رہا اور معاشی پالیسیوں میں تسلسل قائم رہا تو آئندہ دنوں میں پاکستان اسٹاک مارکیٹ مزید نئی بلندیوں کو چھو سکتی ہے۔ تاہم ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ سرمایہ کار محتاط رہیں اور افواہوں یا وقتی جذبات کے بجائے بنیادی عوامل کو مدِنظر رکھتے ہوئے فیصلے کریں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں جاری ریکارڈ توڑ تیزی ملکی معیشت کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی، مارکیٹ میں مسلسل بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اور ڈالر کی قدر میں استحکام اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں نہ صرف اسٹاک مارکیٹ بلکہ مجموعی اقتصادی حالات میں بھی مزید بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے


One Response