رمضان پیکج ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے، وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات

رمضان پیکج ڈیجیٹل والٹس
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

رمضان پیکج ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے، وزیراعظم شہباز شریف کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے اس سال بھی رمضان پیکج کی امدادی رقوم جدید اور شفاف نظام کے تحت ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے تقسیم کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ وزیراعظم کی زیر صدارت رمضان پیکج کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں پیکج کی کارکردگی، گزشتہ سال کے تجربات اور آئندہ کے لیے مزید بہتری کی تجاویز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور وزیراعظم کو تیاریوں سے آگاہ کیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح یہ ہے کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں مستحق اور کم آمدنی والے خاندانوں کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ رمضان پیکج کو مزید مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنانے کے لیے قابلِ عمل سفارشات پیش کی جائیں تاکہ امدادی رقوم اور سہولتیں درست لوگوں تک بروقت پہنچ سکیں۔

وزیراعظم نے واضح طور پر کہا کہ ماضی میں یوٹیلٹی اسٹورز کے نظام میں بدعنوانی اور ناقص انتظامات کے باعث مستحق افراد اپنے حق سے محروم رہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو متعدد شکایات موصول ہوئیں کہ سبسڈی کا فائدہ اصل حقداروں تک نہیں پہنچ پاتا، جس کی وجہ سے عوام کا اعتماد متاثر ہوا۔ انہی وجوہات کے پیش نظر حکومت نے گزشتہ سال رمضان پیکج کے لیے ایک نیا، شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظام متعارف کرایا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ سال حکومت نے یوٹیلٹی اسٹورز کے بجائے ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے براہِ راست نقد امداد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ ان کے مطابق گزشتہ رمضان میں 40 لاکھ مستحق خاندانوں کو فی خاندان 5 ہزار روپے کے حساب سے مجموعی طور پر 20 ارب روپے کی امدادی رقم ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے فراہم کی گئی۔ یہ رقوم بغیر کسی سفارش، رشوت یا تاخیر کے مستحق افراد تک پہنچیں، جس سے شفافیت اور اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے امداد کی تقسیم نے نہ صرف کرپشن کے امکانات کو کم کیا بلکہ مستحق افراد کو یہ سہولت بھی دی کہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق اشیائے خورونوش خرید سکیں۔ ان کے مطابق اس نظام نے عوام کو قطاروں میں لگنے، دھکے کھانے اور محدود اشیا پر انحصار کرنے سے نجات دلائی۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس سال بھی اسی نظام کو مزید بہتر بنا کر نافذ کیا جائے۔

اجلاس میں حکام نے وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس سال رمضان پیکج کے لیے ڈیٹا کی تصدیق، مستحقین کی فہرستوں کی اپ ڈیٹ اور ڈیجیٹل نظام کو مزید محفوظ بنانے پر کام جاری ہے۔ حکام کے مطابق نادرا، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور دیگر اداروں کے ڈیٹا کو باہم مربوط کیا جا رہا ہے تاکہ امداد صرف اور صرف حق دار خاندانوں تک پہنچے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے زور دیا کہ پیکج کے دائرہ کار کو وسیع کرنے اور زیادہ سے زیادہ مستحق خاندانوں کو شامل کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے موجودہ حالات میں غریب اور متوسط طبقہ شدید دباؤ کا شکار ہے، اس لیے حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرے۔ وزیراعظم نے یہ بھی ہدایت کی کہ عوامی آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ لوگ ڈیجیٹل والٹس کے استعمال اور امداد کے حصول کے طریقہ کار سے بخوبی آگاہ ہوں۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اور اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں جواہرات اور قیمتی پتھروں کے شعبے کی اصلاحات کے لیے قومی پالیسی فریم ورک کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں اس شعبے کی موجودہ صورتحال، برآمدات کے امکانات اور درپیش چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل، خصوصاً قیمتی پتھروں اور جواہرات کے حوالے سے بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے، تاہم بدقسمتی سے اس شعبے سے خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے کہا کہ ایک جامع اور منظم پالیسی کے ذریعے نہ صرف اس شعبے کو دستاویزی بنایا جا سکتا ہے بلکہ روزگار کے نئے مواقع اور زرمبادلہ کے حصول میں بھی نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

اجلاس میں منظور کیے گئے قومی پالیسی فریم ورک کے تحت جواہرات اور قیمتی پتھروں کی کان کنی، پراسیسنگ، سرٹیفکیشن اور برآمدات کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کیے جائیں، مقامی کاریگروں کو جدید تربیت فراہم کی جائے اور بین الاقوامی معیار کے مطابق لیبارٹریز قائم کی جائیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کا وژن ہے کہ پاکستان کو جواہرات اور قیمتی پتھروں کی عالمی منڈی میں ایک معتبر مقام دلایا جائے۔ ان کے مطابق اس پالیسی کے نفاذ سے نہ صرف ملکی معیشت کو تقویت ملے گی بلکہ دور دراز علاقوں میں بسنے والے افراد کے لیے معاشی ترقی کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔

حکومتی حلقوں کے مطابق رمضان پیکج میں ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے امداد کی تقسیم اور جواہرات کے شعبے میں اصلاحات، دونوں اقدامات وزیراعظم کے اس وژن کا حصہ ہیں جس کا مقصد شفافیت، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور عوامی فلاح کو یقینی بنانا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان پالیسیوں پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کیا گیا تو اس کے مثبت نتائج نہ صرف قلیل مدت بلکہ طویل مدت میں بھی سامنے آئیں گے۔

مجموعی طور پر وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات اور فیصلے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت سماجی تحفظ اور معاشی ترقی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ رمضان پیکج کے ذریعے مستحق خاندانوں کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جواہرات کے شعبے کی اصلاحات کے ذریعے معیشت کو مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عوام کی نظریں اب ان پالیسیوں کے عملی نتائج پر مرکوز ہیں، جو آنے والے دنوں میں سامنے آنے کی توقع ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]