وزیراعظم شہباز شریف کی الطاف حسن قریشی کے گھر آمد، مرحوم کے بیٹوں اور بیٹی سے ملاقات، صحافتی خدمات پر زبردست خراجِ عقیدت پیش
پاکستان کے معروف اور سینیئر ترین صحافی، دانشور اور پبلشر الطاف حسن قریشی کی وفات پر ملکی سطح پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے مرحوم کے اہلخانہ سے یکجہتی اور دکھ کا اظہار کرنے کے لیے ان کی رہائش گاہ کا دورہ کیا۔ شہباز شریف کی الطاف حسن قریشی کے گھر آمد کا مقصد پسماندگان سے دلی تعزیت کرنا اور مرحوم کی ملکی و صحافتی خدمات کو سرکاری سطح پر سراہنا تھا۔
وزیراعظم نے وہاں پہنچ کر سوگوار خاندان کے ساتھ وقت گزارا اور الطاف حسن قریشی مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی، جن کا شمار پاکستان کی صحافتی تاریخ کے سنہری ابواب میں ہوتا ہے۔
اہلخانہ سے ملاقات اور دلی تعزیت
اس موقع پر شہباز شریف کی الطاف حسن قریشی کے گھر آمد کے دوران انہوں نے مرحوم کے صاحبزادے کامران حسن قریشی اور صاحبزادی کرتبہ مظہر سے خصوصی ملاقات کی۔ وزیراعظم نے دونوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ والد کی شفقت سے محرومی ایک بہت بڑا صدمہ ہے، جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے پسماندگان کو حوصلہ دیا اور یقین دلایا کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ اور پوری قوم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
شہباز شریف کی الطاف حسن قریشی کے گھر آمد کے وقت ان کے ہمراہ دیگر سرکاری حکام بھی موجود تھے جنہوں نے سوگوار خاندان سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے مرحوم کے بیٹوں اور بیٹی کے ساتھ مل کر الطاف حسن قریشی کی مغفرت اور بلندیِ درجات کے لیے ہاتھ اٹھا کر فاتحہ خوانی بھی کی۔
الطاف حسن قریشی کی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین
ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے الطاف حسن قریشی کی طویل صحافتی اور ادبی خدمات کو شاندار الفاظ میں یاد کیا۔ شہباز شریف کی الطاف حسن قریشی کے گھر آمد پر ان کا کہنا تھا کہ مرحوم محض ایک نام نہیں بلکہ پاکستان میں اصول پسند اور نظریاتی صحافت کی ایک پوری یونیورسٹی تھے۔ انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے ہمیشہ سچائی کا علم بلند رکھا اور ملک میں صحافتی اقدار کو نئی جلا بخشی۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ الطاف حسن قریشی جیسے نڈر اور اعلیٰ درجے کے انسان روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ انہوں نے اپنی تحریروں اور جریدے ‘اردو ڈائجسٹ’ کے ذریعے نسلوں کی فکری تربیت کی، جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
صحافتی دنیا میں نہ پُر ہونے والا خلا
شہباز شریف کی الطاف حسن قریشی کے گھر آمد کے دوران گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا کہ ان کی رحلت سے پاکستانی صحافت کا ایک شاندار عہد ختم ہو گیا ہے۔ وزیراعظم نے واضح الفاظ میں کہا کہ مرحوم کی وفات سے ملک کے علمی، ادبی اور صحافتی حلقوں میں ایک ایسا نہ پُر ہونے والا خلا پیدا ہو گیا ہے جسے مدتوں تک پُر نہیں کیا جا سکے گا۔ ان کا طرزِ تحریر، ان کے انٹرویوز اور ان کے تجزیے آنے والے نئے صحافیوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گے۔
شہباز شریف کی الطاف حسن قریشی کے گھر آمد کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ ریاست اپنے سینیئر دانشوروں اور قلم کاروں کی کتنی قدر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الطاف حسن قریشی نے ہمیشہ ملکی مفاد کو ترجیح دی اور ان کے جانے سے پاکستان ایک عظیم محبِ وطن سے محروم ہو گیا ہے۔
سوگوار برادری اور حکومت کا عزم
وزیراعظم نے گفتگو کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ حکومت الطاف حسن قریشی کے مشن اور ان کی فکری میراث کو زندہ رکھنے کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گی۔ شہباز شریف کی الطاف حسن قریشی کے گھر آمد کے موقع پر انہوں نے اہلخانہ کو یقین دلایا کہ مرحوم کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کی صحافتی تاریخ کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
صدر شی جن پنگ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرقِ وسطیٰ میں امن کیلئے پاکستان کا تعمیری کردار سراہا
شہباز شریف کی الطاف حسن قریشی کے گھر آمد اور اس تعزیتی دورے کے اختتام پر انہوں نے ایک بار پھر دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو یہ صدمہ جرات اور صبر کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔






