پاکستان ایران تجارت 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ، وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی وزیر صنعت کی ملاقات

شہباز شریف سے ایرانی وزیر صنعت کی ملاقات
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان ایران تجارت 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ، وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی وزیر صنعت کی ملاقات

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف سے ایران کے وزیر صنعت، کان کنی و تجارت سید محمد اتابک کی سربراہی میں چھ رکنی وفد نے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، سرحدی تعاون اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط کو مزید مضبوط بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی مخلصانہ سفارتی کوششیں جاری رکھے گا اور امید ہے کہ مسلسل تعاون کے ذریعے پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف حاصل کیا جا سکے گا۔

جائیکا صدر پاکستان دورہ، وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات
وزیراعظم شہباز شریف اور جائیکا کے صدر ڈاکٹر تناکا اکیہیکو کی ملاقات میں معاشی اصلاحات اور ترقیاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خوراک، زرعی اجناس، زرعی مصنوعات اور دیگر تجارتی شعبوں میں تعاون بڑھانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ساتھ حالیہ ملاقات اور گفتگو کا بھی ذکر کرتے ہوئے اسے انتہائی مثبت قرار دیا۔

شہباز شریف سے ایرانی وزیر صنعت کی ملاقات کے دوران دونوں ممالک نے پاکستان۔ایران سرحد کو 24 گھنٹے فعال رکھنے کے لیے سہولیات میں اضافے، لاجسٹکس کو بہتر بنانے اور کسٹمز کے طریقہ کار میں ہم آہنگی پیدا کرنے پر اتفاق کیا۔

دونوں رہنماؤں نے کان کنی کے شعبے، خصوصاً قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ، ویلیو ایڈیشن اور معدنی وسائل کی ترقی میں باہمی تعاون کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے سپریم لیڈر کے نمائندے آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔

شہباز شریف سے ایرانی وزیر صنعت کی ملاقات پر ایرانی وزیر صنعت، کان کنی و تجارت سید محمد اتابک نے پرتپاک استقبال اور شاندار میزبانی پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران، پاکستان کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور صنعتی تعاون کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (FTA) سے متعلق تکنیکی سطح پر مذاکرات جاری ہیں، جن کی تکمیل سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو مزید فروغ ملے گا۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: وزیراعظم شہباز شریف سے کس نے ملاقات کی؟

جواب: ایران کے وزیر صنعت، کان کنی و تجارت سید محمد اتابک کی سربراہی میں چھ رکنی وفد نے ملاقات کی۔

سوال 2: ملاقات میں اہم موضوعات کیا تھے؟

جواب: دوطرفہ تجارت، بارڈر سہولیات، لاجسٹکس، کسٹمز، کان کنی، سرمایہ کاری اور علاقائی امن۔

سوال 3: پاکستان اور ایران نے تجارت کا کیا ہدف مقرر کیا؟

جواب: دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

سوال 4: بارڈر کے حوالے سے کیا فیصلہ ہوا؟

جواب: سرحد کو 24 گھنٹے فعال رکھنے، لاجسٹکس بہتر بنانے اور کسٹمز کے طریقہ کار میں ہم آہنگی پر اتفاق کیا گیا۔

سوال 5: کیا آزاد تجارتی معاہدے پر بھی بات ہوئی؟

جواب: جی ہاں، ایرانی وزیر کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (FTA) کے حوالے سے تکنیکی سطح پر مذاکرات جاری ہیں۔

متعلقہ خبریں