نمائش چورنگی احتجاج: پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان میں جھڑپیں، 30 افراد حراست میں
کراچی میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے متوقع جلسے سے قبل شہر کی صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔ نمائش چورنگی کے علاقے میں پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی کارکنوں کو حراست میں لینے کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ مختلف مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان تلخ کلامی اور جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔ صورتحال کے پیشِ نظر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور شہر کے حساس مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
نمائش کے قریب واقع باغ جناح میں مظاہرین کی جانب سے پولیس موبائل پر پتھراؤ کی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مشتعل افراد نے پولیس موبائل کو روکنے کی کوشش کی اور اس پر پتھراؤ کیا۔ فوٹیج کے مطابق مظاہرین خاصے غصے میں نظر آئے، جس کے بعد پولیس نے حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے شیلنگ کا استعمال کیا تاکہ کارکنوں کو منتشر کیا جا سکے اور مزید بدامنی سے بچا جا سکے۔
پولیس حکام کے مطابق نمائش چورنگی اور اطراف کے علاقوں سے اب تک 30 پی ٹی آئی کارکنان کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین کی جانب سے تشدد کے دوران ایک پولیس اہلکار زخمی بھی ہوا ہے، جسے فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی۔ پولیس حکام کا مؤقف ہے کہ کارروائی امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور عوامی جان و مال کے تحفظ کے لیے کی جا رہی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو بارہا پرامن رہنے اور قانون ہاتھ میں نہ لینے کی ہدایت کی گئی، تاہم پتھراؤ اور ہنگامہ آرائی کے باعث کارروائی ناگزیر ہو گئی۔ پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ شہر میں کسی کو بھی قانون کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور امن خراب کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ترجمان پی ٹی آئی کراچی نے پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کارکنان پُرامن ہیں اور انہیں بلاجواز حراست میں لیا جا رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کچھ ہی دیر بعد کراچی میں مزارِ قائد پہنچیں گے، جہاں پی ٹی آئی کے کارکنان اور رہنما ان کا استقبال کریں گے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کا مؤقف آئینی اور جمہوری ہے اور جلسہ مکمل طور پر پُرامن ہوگا۔
ترجمان پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا کہ جلسے سے قبل کارکنان کو روکنے اور خوفزدہ کرنے کے لیے پولیس طاقت کا استعمال کر رہی ہے، جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی قیادت نے کارکنان کو پُرامن رہنے اور قانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کرنے کی ہدایات دے رکھی ہیں۔
واضح رہے کہ کراچی میں تحریک انصاف کے جلسے سے قبل مزارِ قائد اور اس کے اطراف کے علاقوں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے الرٹ ہیں، جبکہ داخلی اور خارجی راستوں پر سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔
ٹریفک پولیس کے مطابق جلسے اور سیکیورٹی انتظامات کے باعث شہر کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے۔ پیپلز چورنگی سے مزارِ قائد آنے والی سڑک کا ایک ٹریک بند کر دیا گیا ہے، جبکہ خداداد کالونی سے آنے والی سڑک کے دونوں ٹریک بھی بند ہیں۔ اس کے علاوہ گرومندر سے نمائش سگنل تک جانے والی مرکزی سڑک بھی مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے، جس کے باعث شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ بندشوں کا مقصد جلسے کے مقام اور اطراف میں سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے، تاہم شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور متبادل راستوں کے استعمال کا مشورہ دیا گیا ہے۔ شہر کے مختلف حصوں میں ٹریفک جام کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں، جس سے دفاتر اور کاروباری مراکز آنے جانے والوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق کراچی میں پی ٹی آئی کے جلسے سے قبل پیدا ہونے والی صورتحال صوبائی حکومت اور اپوزیشن جماعت کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جلسے، احتجاج اور سیاسی سرگرمیاں ہر شہری اور جماعت کا آئینی حق ہیں، تاہم ان سرگرمیوں کے دوران امن و امان کا قیام ریاست اور عوام دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
سیاسی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ اور سیاسی قیادت کے درمیان بہتر رابطہ اور ہم آہنگی ہو تو ایسے حالات سے بچا جا سکتا ہے۔ طاقت کے استعمال کے بجائے مکالمے اور انتظامی تعاون کے ذریعے حالات کو کنٹرول کرنا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
مختصراً، نمائش چورنگی اور مزارِ قائد کے اطراف میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال نے شہر کے امن و امان اور ٹریفک نظام کو متاثر کیا ہے۔ پولیس کی جانب سے حراستیں، شیلنگ اور سڑکوں کی بندش نے صورتحال کو حساس بنا دیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی قیادت جلسے کو پُرامن اور جمہوری حق قرار دے رہی ہے۔ آنے والے چند گھنٹے کراچی کی سیاسی اور انتظامی صورتحال کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں، جہاں تمام فریقین سے تحمل، برداشت اور قانون کی پاسداری کی توقع کی جا رہی ہے۔

