شدید سردی کی لہر سے پاکستان متاثر، دھند کے باعث موٹرویز بند

برائلر گوشت کی قیمت میں اوور چارجنگ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ہنزہ میں پارہ منفی 20 تک گرگیا، دھند نے ٹریفک نظام مفلوج کر دیا

ملک بھر میں شدید سردی کی لہر نے اپنے پنجے گاڑھ لیے ہیں، جس کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو گئے ہیں۔ بالائی اور شمالی علاقوں میں درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے کہیں نیچے چلا گیا ہے جبکہ میدانی علاقوں میں شدید دھند کے باعث ٹریفک نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ سرد موسم اور گہری دھند کے سبب مختلف موٹرویز کو حفاظتی اقدامات کے تحت بند کر دیا گیا ہے، جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

عالمی موسمی ویب سائٹ کے مطابق گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ میں سردی نے نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے کم سے کم درجہ حرارت منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے۔ شدید یخ بستگی کے باعث ہنزہ اور گرد و نواح میں پانی کی لائنیں منجمد، معمولات زندگی مفلوج اور مقامی آبادی شدید سردی کی لپیٹ میں ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ گھروں میں ہیٹر اور لکڑی کا استعمال بڑھ گیا ہے جبکہ سردی کے باعث اسکولوں میں حاضری بھی متاثر ہو رہی ہے۔

ادھر کوئٹہ میں بھی سردی کی شدت برقرار ہے جہاں کم سے کم درجہ حرارت منفی ایک ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ صوبائی دارالحکومت میں یخ بستہ ہواؤں اور سرد موسم کے باعث شہریوں کو گھروں سے نکلنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ بازاروں میں گاہکوں کی تعداد کم جبکہ گرم ملبوسات کی مانگ میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی موسم غیر معمولی طور پر سرد ہے۔ اسلام آباد میں کم سے کم درجہ حرارت 2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جہاں صبح کے اوقات میں شدید دھند چھائی رہی۔ لاہور میں درجہ حرارت 3 ڈگری، پشاور میں 4 ڈگری جبکہ کراچی میں بھی سرد ہوائیں چلنے کے باعث کم سے کم درجہ حرارت 7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے خاصا کم ہے۔ کراچی میں سردی کی یہ شدت شہریوں کے لیے غیر متوقع سمجھی جا رہی ہے۔

شدید دھند کے باعث ملک بھر میں موٹروے ٹریفک شدید متاثر ہوئی ہے۔ موٹروے پولیس کے مطابق حدِ نگاہ انتہائی کم ہونے کے باعث مختلف موٹرویز کو بند کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی بڑے حادثے سے بچا جا سکے۔ موٹروے ایم ون پر پشاور سے رشکئی تک ٹریفک معطل کر دی گئی ہے، جبکہ ایم ٹو ٹھوکر نیاز بیگ سے چکری تک مکمل طور پر بند ہے۔

اسی طرح ایم تھری فیض پور سے درخانہ تک، ایم فور پنڈی بھٹیاں سے شیر شاہ تک اور ایم فائیو شیر شاہ سے سکھر تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔ ایم الیون لاہور سے سمبڑیال اور ایم فورٹین انجرا سے عیسیٰ خیل تک بھی شدید دھند کے باعث ٹریفک کی آمد و رفت روک دی گئی ہے۔ موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ دھند کے خاتمے اور حدِ نگاہ بہتر ہونے تک موٹرویز بند رہیں گی۔

سندھ کے مختلف علاقوں میں بھی دھند نے صورتحال سنگین بنا دی ہے۔ سیہون سے لاڑکانہ تک مختلف مقامات پر حدِ نگاہ صرف 10 سے 30 میٹر تک محدود ہو گئی ہے، جس کے باعث قومی شاہراہوں پر ٹریفک سست روی کا شکار ہے۔ ڈرائیور حضرات کو شدید احتیاط برتنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔

موٹروے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کو بار بار تاکید کی جا رہی ہے کہ دھند کے دوران غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں، گاڑیوں میں فوگ لائٹس کا استعمال کریں، رفتار کم رکھیں اور اگلی گاڑی سے مناسب فاصلہ برقرار رکھیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر حادثات حدِ نگاہ کم ہونے اور تیز رفتاری کے باعث پیش آتے ہیں۔

ماہرینِ موسمیات کے مطابق ملک میں جاری سردی کی یہ لہر چند مزید روز برقرار رہ سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شمالی ہواؤں اور مغربی سسٹم کے زیرِ اثر درجہ حرارت میں مزید کمی کا امکان ہے، خاص طور پر بالائی علاقوں میں شدید ٹھنڈ اور برف باری کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹروں اور ماہرین صحت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ سرد موسم میں گرم کپڑوں کا استعمال کریں، خاص طور پر بزرگوں، بچوں اور مریضوں کا خاص خیال رکھا جائے۔ شدید سردی کے باعث نزلہ، زکام، کھانسی اور سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، اس لیے احتیاطی تدابیر اپنانا ناگزیر ہے۔

مختصراً، ملک بھر میں شدید سردی اور دھند نے جہاں روزمرہ زندگی کو متاثر کر دیا ہے وہیں سفری نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ شہریوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ موسم کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور سرکاری ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اپنی اور دوسروں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنائیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]