کراچی: سانحہ گل پلازہ کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ مکمل،پلازہ میں آگ ماچس یا لائٹر سے لگنے کا انکشاف

کراچی سانحہ گل پلازہ کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

کراچی: سانحہ گل پلازہ کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ مکمل،پلازہ میں آگ ماچس یا لائٹر سے لگنے کا انکشاف، مرکزی دروازے بند ہونے کے باعث شدید بھگدڑ مچ گئی، جس سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا


کراچی : کراچی کے علاقے میں پیش آنے والے دلخراش سانحہ گل پلازہ سے متعلق تحقیقاتی حکام نے عینی شاہدین اور متاثرین کے بیانات کی روشنی میں ابتدائی رپورٹ مکمل کر لی ہے، جس میں آگ لگنے کی اصل وجہ اور عمارت میں موجود سنگین حفاظتی خامیوں کا انکشاف کیا گیا ہے۔

تحقیقاتی ذرائع کے مطابق گل پلازہ میں آگ مصنوعی پھولوں کی ایک دکان میں لگی، جہاں موجود بچے کھیل کے دوران ماچس یا لائٹر سے کھیل رہے تھے۔ ابتدائی شواہد کے مطابق آگ پہلے دکان میں موجود آتش گیر سامان میں بھڑکی، جس کے بعد وہ تیزی سے بجلی کی تاروں کے ذریعے پوری عمارت میں پھیل گئی۔

کراچی گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد ریسکیو آپریشن
گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد ملبے میں سرچ آپریشن

گل پلازہ کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں زرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت آگ شارٹ سرکٹ کے باعث نہیں لگی، بلکہ انسانی غفلت اس سانحے کی بنیادی وجہ بنی۔ آگ لگتے ہی عمارت میں موجود افراد جان بچانے کے لیے خارجی راستوں کی طرف بھاگے، تاہم مرکزی دروازے بند ہونے کے باعث شدید بھگدڑ مچ گئی، جس سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔

گل پلازہ کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گل پلازہ میں زیادہ تر دکانیں کھلی ہوئی تھیں اور چھت پر جانے والے راستے پر بھی آہنی گرل نصب تھی، جس کی وجہ سے متاثرین کو باہر نکلنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ آگ لگنے کے باعث عمارت میں نصب سی سی ٹی وی سسٹم مکمل طور پر ناکارہ ہو گیا، جس سے تفتیش کو بھی مشکلات پیش آئیں۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) نے بتایا ہے کہ ملبے کے نیچے ممکنہ لاشوں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے، جبکہ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ حکام کے مطابق حتمی رپورٹ میں ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی سفارش کی جائے گی۔

سانحہ گل پلازہ نے ایک بار پھر کراچی کی تجارتی عمارتوں میں فائر سیفٹی انتظامات، ایمرجنسی اخراجی راستوں اور حکومتی نگرانی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ شہری حلقوں کا مطالبہ ہے کہ اس سانحے میں ملوث غفلت کے ذمہ داروں کو مثال بنایا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]