پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس: شدید احتجاج کے باوجود 3 اہم بلز منظور

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، اپوزیشن کا شدید احتجاج
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

صدر کے اعتراضات اور اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود پارلیمنٹ سے 3 بلز منظور

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کے شدید احتجاج اور صدرِ مملکت کی جانب سے اعتراضات کے باوجود تین اہم بلز منظور کر لیے گئے۔ اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی صدارت میں مقررہ وقت سے 35 منٹ تاخیر سے شروع ہوا، جس کے دوران ایوان میں ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی کا سلسلہ جاری رہا۔

مشترکہ اجلاس میں صدرِ مملکت کی جانب سے دانش اسکولز اتھارٹی بل اور گھریلو تشدد سے متعلق بل پر اعتراضات سامنے آئے۔ صدر نے دانش اسکولز اتھارٹی کے قیام سے قبل صوبوں سے مشاورت کی ہدایت کی، جبکہ گھریلو تشدد بل کو مبہم قرار دیتے ہوئے اس میں تجویز کردہ سزاؤں پر نظرثانی کا مشورہ دیا گیا۔ تاہم ایوان میں ان اعتراضات کو نظر انداز کرتے ہوئے قانون سازی کا عمل جاری رکھا گیا۔

قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل منظور

مشترکہ اجلاس میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل 2025 وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پیش کیا۔ پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری کی جانب سے پیش کی گئی ترمیم کو حکومت کی حمایت حاصل ہوئی، جبکہ جے یو آئی کی جانب سے پیش کی گئی ترامیم مسترد کر دی گئیں۔ بعد ازاں ایوان نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل کی منظوری دے دی۔

دانش اسکولز اتھارٹی بل پر ہنگامہ آرائی

دانش اسکولز اتھارٹی بل 2025 کی منظوری کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔ جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے صدرِ مملکت کی ایڈوائس ایوان میں پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ وفاق صوبوں کے دائرہ اختیار میں مداخلت کر رہا ہے۔ اس دوران اپوزیشن اراکین نے نعرے بازی کی، پی ٹی آئی اراکین اسپیکر ڈائس کے سامنے آ گئے اور دونوں ایوانوں کے قائد حزب اختلاف بھی اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے۔ احتجاج کے باوجود اسپیکر نے منظوری کا عمل مکمل کرایا اور بل منظور کر لیا گیا۔

گھریلو تشدد روک تھام و تحفظ بل کی منظوری

بعد ازاں گھریلو تشدد روک تھام و تحفظ بل 2025 ایوان میں پیش کیا گیا۔ جے یو آئی ارکان نے صدر کے اعتراضات پیش کیے اور بل پر مزید غور کا مطالبہ کیا، تاہم ان کی ترامیم مسترد کر دی گئیں۔ وزیر مملکت طلال چوہدری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس بل میں پہلی بار مردوں کو بھی گھریلو تشدد کے تحفظ میں شامل کیا گیا ہے۔ اپوزیشن کے جزوی احتجاج کے باوجود بل منظور کر لیا گیا۔

سانحہ گل پلازہ پر متفقہ قرارداد

مشترکہ اجلاس میں کراچی کے سانحہ گل پلازہ پر حکومت اور اپوزیشن کی متفقہ قرارداد بھی منظور کی گئی۔ قرارداد میں شہداء کے لیے دعائے مغفرت، متاثرین سے اظہارِ یکجہتی، آگ سے بچاؤ کے مؤثر انتظامات اور متاثرین کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ یہ سانحہ کسی ایک شہر کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے اور اسے سیاست یا لسانیت سے جوڑنا درست نہیں۔

غزہ پیس بورڈ پر بحث

اجلاس کے دوران علامہ راجا ناصر عباس نے غزہ پیس بورڈ میں پاکستان کی شمولیت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس بورڈ میں فلسطینیوں کی نمائندگی شامل نہیں اور اسے ’’قبضہ بورڈ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے اس معاملے پر قرارداد منظور کرنے کا مطالبہ کیا۔ جواب میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ جرات مندانہ فیصلے کیے ہیں اور غزہ کے امن کے لیے برادر اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر کردار ادا کر سکتا ہے۔

دانش اسکولز اتھارٹی ایکٹ 2025 کی تفصیلات

پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے دانش اسکولز اتھارٹی ایکٹ 2025 کے تحت اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں دانش اسکولز کے نظم و نسق کے لیے ایک باقاعدہ اتھارٹی قائم کی جائے گی۔ اتھارٹی ایک قانونی ادارہ ہوگی جسے معاہدے کرنے اور مقدمات دائر کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ وزیرِاعظم پاکستان اتھارٹی کے چیئرمین جبکہ متعلقہ وفاقی وزیر وائس چیئرمین ہوں گے۔ ایکٹ کے تحت کم آمدن والے گھرانوں کے بچوں کو تعلیم میں ترجیح دی جائے گی۔

تمام قانون سازی کے بعد پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]