ڈیرہ بگٹی گیس دریافت، ماڑی انرجی لمیٹڈ کا بڑا اعلان

ڈیرہ بگٹی میں ماڑی انرجی کی جانب سے گیس کی دریافت
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ماڑی انرجی لمیٹڈ نے ڈیرہ بگٹی میں نئے گیس ذخائر دریافت کر لیے

پاکستان کے توانائی کے شعبے کے لیے ایک اہم اور خوش آئند پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ماڑی انرجی لمیٹڈ نے ضلع ڈیرہ بگٹی، بلوچستان میں قدرتی گیس کی نئی دریافت کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس دریافت کو نہ صرف ملکی توانائی ضروریات پوری کرنے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے بلکہ یہ پاکستان میں تیل و گیس کی تلاش کے شعبے میں جاری سرگرمیوں کی کامیابی کا بھی واضح ثبوت ہے۔

ماڑی انرجی لمیٹڈ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ گیس دریافت ڈیرہ بگٹی کے کلچاس ساؤتھ بلاک میں واقع تبری-ون (Tabri-1) کنویں سے ہوئی ہے۔ کمپنی کے مطابق مذکورہ کنواں جدید تکنیکی بنیادوں پر کھودا گیا، جہاں ابتدائی جانچ اور ٹیسٹنگ کے دوران قابلِ ذکر مقدار میں قدرتی گیس کے ذخائر سامنے آئے ہیں۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ گیس کے یہ ذخائر زمین کی سطح سے تقریباً 7 ہزار 170 فٹ کی گہرائی میں دریافت ہوئے، جو اس خطے میں زیرِ زمین توانائی وسائل کی موجودگی کا ایک اور مضبوط اشارہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اس گہرائی پر گیس کی دریافت اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ بلوچستان کے کئی علاقوں میں ابھی بھی توانائی کے بڑے ذخائر موجود ہیں، جن کی تلاش کے لیے مزید سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔

ماڑی انرجی کے ابتدائی پیداواری نتائج (Initial Test Results) کے مطابق تبری-ون کنویں سے یومیہ 6.5 سے 11 ایم ایم ایس سی ایف ڈی (Million Standard Cubic Feet per Day) تک گیس کا بہاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ مقدار ابتدائی مراحل کے لیے حوصلہ افزا سمجھی جا رہی ہے، اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید جانچ اور ترقیاتی مراحل کے بعد اس کنویں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ دریافت ملک کی مجموعی گیس ضروریات کو فوری طور پر مکمل طور پر پورا کرنے کے لیے کافی نہیں، تاہم یہ قومی گیس نیٹ ورک میں اضافی سپلائی شامل کرنے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہے۔ پاکستان اس وقت توانائی کے شدید بحران سے دوچار ہے، جہاں گیس کی طلب اور رسد کے درمیان واضح فرق موجود ہے، اور ایسے میں ہر نئی دریافت انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔

یہ دریافت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کو گیس کی درآمدات پر انحصار بڑھانا پڑ رہا ہے، خاص طور پر ایل این جی (LNG) کی صورت میں، جو ملکی معیشت پر بھاری بوجھ ڈال رہی ہے۔ مقامی سطح پر گیس کی دریافت نہ صرف درآمدی بل میں کمی کا باعث بن سکتی ہے بلکہ زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

بلوچستان جیسے پسماندہ مگر قدرتی وسائل سے مالا مال صوبے میں اس نوعیت کی دریافت کو علاقائی ترقی کے تناظر میں بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس منصوبے کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا گیا تو نہ صرف مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ بنیادی ڈھانچے، سڑکوں اور دیگر سہولیات کی بہتری میں بھی مدد ملے گی۔

ماڑی انرجی لمیٹڈ پاکستان کے تیل و گیس کے شعبے میں ایک نمایاں نام ہے اور اس سے قبل بھی کمپنی ملک کے مختلف علاقوں میں کامیاب دریافتیں کر چکی ہے۔ تبری-ون کنویں میں گیس کی یہ تازہ دریافت کمپنی کی تکنیکی مہارت، جدید سائنسی طریقۂ کار اور مسلسل سرمایہ کاری کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے۔

توانائی کے شعبے سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسی دریافتوں کی حوصلہ افزائی کے لیے پالیسی سطح پر مزید سہولتیں فراہم کرے، تاکہ مقامی و غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں تیل و گیس کی تلاش کے منصوبوں میں دلچسپی لیں۔ ٹیکس میں مراعات، ریگولیٹری آسانیاں اور سیکیورٹی کے بہتر انتظامات اس حوالے سے کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ابتدائی معلومات کے مطابق ماڑی انرجی آئندہ مراحل میں اس کنویں کی مزید تشخیص (Appraisal) اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے اضافی کام کرے گی۔ اگر نتائج مثبت رہے تو اس بلاک میں مزید کنویں کھودنے کا امکان بھی موجود ہے، جس سے مجموعی گیس پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔

مجموعی طور پر، ڈیرہ بگٹی میں گیس کی یہ نئی دریافت پاکستان کے توانائی شعبے کے لیے ایک امید افزا پیش رفت ہے۔ ایسے وقت میں جب ملک توانائی کے بحران، مہنگی درآمدات اور صنعتی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، مقامی وسائل کی دریافت نہ صرف معاشی استحکام بلکہ توانائی خود کفالت کی جانب بھی ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس منصوبے کی پیش رفت اور اس کے عملی نتائج پر ملکی اور عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جائے گی۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]