پاکستان میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی کا سلسلہ جاری، 3 روز میں 82 ہزار روپے سستا
پاکستان میں سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی تاریخی اور غیر معمولی کمی کا سلسلہ جاری ہے، جس نے نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ عام شہریوں کو بھی حیران کر دیا ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق کاروباری ہفتے کے پہلے روز بھی سونے کی قیمت میں بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں فی تولہ سونا مزید 21 ہزار 500 روپے سستا ہو گیا ہے۔
تازہ کمی کے بعد ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت کم ہو کر 4 لاکھ 90 ہزار 362 روپے کی سطح پر آ گئی ہے، جو حالیہ دنوں کی بلند ترین قیمتوں کے مقابلے میں نمایاں کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 18 ہزار 433 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد 10 گرام سونا 4 لاکھ 20 ہزار 406 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق یہ کمی محض ایک دن تک محدود نہیں بلکہ گزشتہ تین دنوں کے دوران فی تولہ سونے کی قیمت میں مجموعی طور پر 82 ہزار 500 روپے کی نمایاں کمی ہو چکی ہے، جو ملکی تاریخ میں سونے کی قیمت میں ہونے والی بڑی کمیوں میں سے ایک قرار دی جا رہی ہے۔
عالمی مارکیٹ کا اثر
دوسری جانب عالمی صرافہ بازار میں بھی سونے کی قیمت میں شدید مندی دیکھی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 215 امریکی ڈالر کی بڑی کمی کے بعد 4 ہزار 676 ڈالر فی اونس کی سطح پر آ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں کمی کا براہِ راست اثر پاکستان سمیت دیگر ممالک کی مقامی مارکیٹوں پر پڑ رہا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ، امریکی شرحِ سود سے متعلق خدشات، عالمی مالیاتی پالیسیوں میں تبدیلی اور سرمایہ کاروں کا سونے سے ہٹ کر دیگر شعبوں کی جانب رجحان سونے کی قیمت میں کمی کی بڑی وجوہات ہیں۔ اس کے علاوہ عالمی سیاسی کشیدگی میں وقتی کمی اور اسٹاک مارکیٹس میں بہتری نے بھی سونے کی طلب کو متاثر کیا ہے۔
ملکی سطح پر وجوہات
پاکستان میں سونے کی قیمت کا انحصار عالمی نرخوں کے ساتھ ساتھ ڈالر کی مقامی قدر پر بھی ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں نسبتی استحکام نے بھی سونے کی قیمت میں کمی کے رجحان کو تقویت دی ہے۔ اس کے علاوہ مارکیٹ میں خریداری کی طلب میں کمی اور سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کی خاطر سونا فروخت کیے جانے کے باعث بھی قیمتوں پر دباؤ بڑھا ہے۔
جیولرز کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمت میں اچانک اور تیز رفتار کمی کے باعث کاروباری سرگرمیاں وقتی طور پر متاثر ہوئی ہیں، کیونکہ خریدار مزید کمی کی امید میں خریداری مؤخر کر رہے ہیں، جبکہ دکاندار پرانے مہنگے اسٹاک کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہیں۔
عوام اور سرمایہ کاروں کا ردِعمل
سونے کی قیمت میں بھاری کمی پر عوامی سطح پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شادی بیاہ کے خواہشمند خاندانوں اور عام صارفین کے لیے یہ کمی کسی حد تک خوش آئند قرار دی جا رہی ہے، تاہم وہ بھی مارکیٹ کے مکمل استحکام کا انتظار کر رہے ہیں۔
دوسری جانب وہ سرمایہ کار جنہوں نے سونا بلند قیمتوں پر خریدا تھا، انہیں شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔ ماہرین سرمایہ کاروں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ سونے میں سرمایہ کاری کے فیصلے جلد بازی کے بجائے طویل المدتی حکمتِ عملی کے تحت کیے جائیں۔
مزید کمی یا استحکام؟
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہا اور ڈالر کی قدر میں بڑی تبدیلی نہ آئی تو آئندہ دنوں میں سونے کی قیمت مزید کم ہو سکتی ہے۔ تاہم کچھ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اتنی بڑی کمی کے بعد مارکیٹ میں تکنیکی بنیادوں پر استحکام یا معمولی اضافے کا امکان بھی موجود ہے۔
مجموعی طور پر پاکستان میں سونے کی قیمت میں حالیہ دنوں کی غیر معمولی کمی نے مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے۔ تین دن میں 82 ہزار 500 روپے فی تولہ کی کمی ایک اہم معاشی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، جس کے اثرات نہ صرف جیولری انڈسٹری بلکہ مجموعی سرمایہ کاری رجحانات پر بھی مرتب ہوں گے۔ آنے والے دنوں میں عالمی معاشی صورتحال، ڈالر کی قدر اور مقامی طلب و رسد اس بات کا تعین کریں گے کہ سونے کی قیمت مزید نیچے جاتی ہے یا کسی حد پر آ کر مستحکم ہو جاتی ہے۔


One Response