یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں اسرائیل مخالف مظاہرے نہ روکنے کا الزام، امریکی محکمہ انصاف عدالت پہنچ گیا
امریکی محکمہ انصاف نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے خلاف ایک بڑا قانونی قدم اٹھاتے ہوئے مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ اس مقدمے کی بنیادی وجہ یونیورسٹی کے لاس اینجلس کیمپس میں ہونے والے اسرائیل مخالف مظاہرے اور مبینہ یہود مخالف سرگرمیوں کو روکنے میں انتظامیہ کی ناکامی بتائی جا رہی ہے۔ امریکی حکام کا موقف ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے ایسے حالات کو نظر انداز کیا جس سے یہودی طلبہ کے لیے کیمپس کا ماحول غیر محفوظ ہو گیا ہے۔
وفاقی قوانین کی مبینہ خلاف ورزی
محکمہ انصاف کے مطابق، کیمپس میں جاری اسرائیل مخالف مظاہرے اور ان سے پیدا ہونے والی صورتحال پر قابو نہ پانا وفاقی شہری حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہر رنگ، نسل اور مذہب سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو یکساں تحفظ فراہم کریں۔ تاہم، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے کیس میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ انتظامیہ کی خاموشی نے اسرائیل مخالف مظاہرے کرنے والوں کو مزید شہہ دی، جس سے کیمپس کا نظم و ضبط متاثر ہوا۔
ٹرمپ انتظامیہ اور بھاری جرمانے کا معاملہ
یہ قانونی جنگ کوئی نئی نہیں ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں ٹرمپ انتظامیہ نے اسی نوعیت کے الزامات پر یونیورسٹی پر ایک ارب ڈالر سے زائد کا جرمانہ عائد کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس وقت ایک وفاقی جج نے مداخلت کرتے ہوئے حکومت کو اس بھاری جرمانے سے روک دیا تھا۔ اس وقت بھی یہی موقف اپنایا گیا تھا کہ یونیورسٹی اسرائیل مخالف مظاہرے روکنے میں سنجیدہ نہیں ہے، تاہم عدالت نے جرمانے کی رقم اور طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
فنڈنگ کی معطلی اور معاشی دباؤ
مقدمے کے علاوہ، امریکی حکومت پہلے ہی یونیورسٹی پر معاشی دباؤ بڑھا چکی ہے۔ اگست میں ہونے والے فلسطین حامی اور اسرائیل مخالف مظاہرے کے بعد، امریکی حکومت نے یونیورسٹی کی تقریباً 584 ملین ڈالر کی فنڈنگ معطل کر دی تھی۔ یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکی حکومت تعلیمی اداروں میں ہونے والے اسرائیل مخالف مظاہرے کے حوالے سے انتہائی سخت گیر پالیسی اپنائے ہوئے ہے اور اسے روکنے کے لیے تعزیری اقدامات کر رہی ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کا خاموش ردعمل
دوسری جانب، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی انتظامیہ نے تاحال اس تازہ ترین مقدمے پر کوئی باضابطہ یا تفصیلی ردعمل جاری نہیں کیا۔ انتظامیہ کا ماضی میں یہ موقف رہا ہے کہ وہ آزادیِ اظہارِ رائے کا احترام کرتی ہے، لیکن اب قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے وہ محتاط نظر آتی ہے۔ اسرائیل مخالف مظاہرے اور ان سے جڑے قانونی مسائل نے یونیورسٹی کی ساکھ اور مالیاتی استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
مستقبل کے اثرات اور انسانی حقوق
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مقدمہ ثابت ہو جاتا ہے، تو امریکہ کے دیگر تعلیمی اداروں پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اسرائیل مخالف مظاہرے کرنے والے طلبہ تنظیموں کے لیے آنے والے دن مشکل ہو سکتے ہیں، کیونکہ اب براہِ راست محکمہ انصاف اس معاملے میں فریق بن چکا ہے۔ کیا یہ مقدمہ آزادیِ اظہار کو دبانے کی کوشش ہے یا واقعی تحفظ فراہم کرنے کی؟ یہ سوال اب امریکی عدالتوں میں زیرِ بحث رہے گا۔
بیجنگ بہار میلہ — ثقافت، فن اور روایات کا حسین امتزاج
مختصراً یہ کہ اسرائیل مخالف مظاہرے اب صرف کیمپس کی دیواروں تک محدود نہیں رہے بلکہ ایک بڑی قانونی اور سیاسی جنگ میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے خلاف یہ مقدمہ اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ امریکی کیمپسز میں احتجاج کی حدود کیا ہونی چاہئیں۔ آنے والے ہفتوں میں اسرائیل مخالف مظاہرے اور ان سے جڑے عدالتی فیصلے عالمی سطح پر شہ سرخیوں میں رہیں گے۔ حکومت کی جانب سے اس طرح کے سخت اقدامات کا مقصد مستقبل میں ایسے اسرائیل مخالف مظاہرے کی حوصلہ شکنی کرنا نظر آتا ہے۔