وزیراعظم نے صدر مملکت کو امریکا ایران مذاکرات اور سفارتی پیشرفت پر اعتماد میں لے لیا
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری کے درمیان ایوان صدر میں ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سمیت خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات کو موجودہ علاقائی و عالمی تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
منگل کے روز ہونے والی اس ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف نے صدر مملکت کو امریکا-ایران مذاکرات کے مختلف مراحل پر جامع بریفنگ دی اور انہیں اس سفارتی عمل کے تمام پہلوؤں سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کوششوں اور ان کے نتیجے میں حاصل ہونے والی پیش رفت پر بھی روشنی ڈالی، جسے عالمی سطح پر ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے صدر مملکت کو اپنے آئندہ دورہ سعودی عرب اور ترکیے کے بارے میں بھی آگاہ کیا، جہاں وہ خطے کی موجودہ صورتحال، سفارتی روابط اور امن کے قیام کے لیے جاری کوششوں پر مزید مشاورت کریں گے۔ ان دوروں کا مقصد پاکستان کے قریبی اتحادی ممالک کے ساتھ ہم آہنگی کو فروغ دینا اور جاری سفارتی عمل کو مضبوط بنانا ہے۔
اس موقع پر صدر آصف علی زرداری نے خطے میں کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال کے اثرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے تنازعات کے اثرات نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر سکیورٹی، معیشت اور سیاست پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن کا قیام نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔
صدر مملکت نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے انعقاد اور میزبانی کے لیے پاکستان کی انتھک سفارتی کوششوں کو سراہا اور وزیراعظم شہباز شریف، عسکری قیادت اور دیگر ریاستی اداروں کے کردار کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار اور کلیدی ریاست کے طور پر اپنی حیثیت کو مزید مستحکم کیا ہے اور عالمی سطح پر امن پسند ملک کے طور پر اپنی ساکھ کو بہتر بنایا ہے۔
صدر زرداری نے اس امر پر بھی زور دیا کہ وزیراعظم اور نائب وزیراعظم کو امریکا، ایران اور دیگر علاقائی و عالمی طاقتوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنا چاہیے، تاکہ امن عمل کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے اور کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو بروقت سفارتی ذرائع سے کم کیا جا سکے۔ ان کے مطابق مسلسل رابطے اور مؤثر سفارتکاری ہی خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی ضمانت بن سکتے ہیں۔
سیاسی و سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ملاقات پاکستان کی فعال خارجہ پالیسی کا مظہر ہے، جس میں ملک نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کر رہا ہے بلکہ عالمی امن کے قیام میں بھی مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک خطے میں ایک ذمہ دار اور بااثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم اور صدر مملکت کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات نہ صرف اہم سفارتی امور پر ہم آہنگی کا مظہر ہے بلکہ اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے سنجیدہ اور فعال کردار ادا کر رہا ہے۔

