عوامی جیبوں پر ایک اور بوجھ کا خدشہ: آئی ایم ایف کے مطالبات کے بعد آئندہ بجٹ میں سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافہ کا قوی امکان، سیلز ٹیکس 18 فیصد کرنے کی تیاری
پاکستان کے غریب اور متوسط طبقے کے لیے سستی بجلی کا واحد متبادل اب پہنچ سے دور ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں، لیکن اس بجٹ کے حوالے سے جو ابتدائی معلومات سامنے آ رہی ہیں، وہ صارفین کے لیے کافی پریشان کن ہیں۔ اندرونی ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافہ کا صاف امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے بعد عام اور تنخواہ دار صارفین کے لیے گھروں پر گرین انرجی یا سولر سسٹم لگوانا خواب بن کر رہ جائے گا۔
ملک میں بجلی کے بھاری بلوں اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے تنگ آ کر عوام نے تیزی سے شمسی توانائی کا رخ کیا تھا، تاہم اب حکومتی ٹیکسز کی وجہ سے مارکیٹ میں ایک نیا بحران جنم لے سکتا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطالبات اور ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ
سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافہ کے پسِ پردہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے سخت ترین مطالبات اور شرائط کار فرما ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان میں مختلف شعبوں کو دی جانے والی ٹیکس استثنیٰ اور سیلز ٹیکس چھوٹ پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ آئی ایم ایف کے وفد نے اپنی حالیہ سفارشات میں الیکٹرک گاڑیوں، ہائبرڈ گاڑیوں اور سولر پینلز کو “اشرافیہ” یعنی امیر طبقے کی ضرورت قرار دیا ہے اور حکومت پر زور دیا ہے کہ ان پر سے سبسڈی اور ٹیکس ریلیف واپس لیا جائے۔
عالمی ادارے کے اس دباؤ کے بعد اب حکومت کے پاس ریلیف برقرار رکھنے کے راستے مسدود ہو چکے ہیں، جس کا براہِ راست نتیجہ عام بازار میں سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافہ کی شکل میں نکلے گا۔
سیلز ٹیکس میں بھاری اضافے کی تجویز
صوبائی اور وفاقی معاشی ماہرین کے درمیان ہونے والی بیٹھک میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آئندہ بجٹ میں سولر پینلز پر عائد موجودہ 10 فیصد سیلز ٹیکس کو یکمشت بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی انتہائی اہم تجویز زیرِ غور ہے۔ اگر یہ تجویز وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ سے منظور ہو جاتی ہے تو سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافہ یقینی ہو جائے گا، جس سے پورے سولر سسٹم کی مجموعی لاگت ہزاروں سے لاکھوں روپے تک بڑھ سکتی ہے۔
انوینٹری ہولڈرز اور ہول سیلرز نے ابھی سے ہی مارکیٹ میں سامان روکنا اور پینلز کی قیمتیں بڑھانا شروع کر دی ہیں، جس کی وجہ سے خریداروں کو بجٹ سے پہلے ہی سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافہ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
نئے طویل المدتی بیل آؤٹ پروگرام کا دباؤ
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے ساتھ ایک نئے اور طویل المدتی بیل آؤٹ پروگرام (Extended Fund Facility) کے لیے انتہائی نازک اور اہم ترین مذاکرات کے دور سے گزر رہا ہے۔ اس نئے قرض پروگرام کو حاصل کرنے کے لیے حکومت کے پاس ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور ہر قسم کی رعایتی استثنیٰ کو ختم کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں بچا۔
چونکہ ملکی معیشت کو بچانے کے لیے آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل کرنا مجبوری بن چکا ہے، اسی لیے حکومت نان فائلرز اور متبادل توانائی کے شعبوں پر نئے ٹیکسز عائد کر رہی ہے، جس کا حتمی خمیازہ صارفین کو سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافہ بھگت کر پورا کرنا پڑے گا۔
قابل تجدید توانائی کے منصوبوں پر منفی اثرات
معاشی اور ماحولیاتی امور کے ماہرین نے حکومت کی ان مجوزہ تجاویز پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بجٹ میں ان تجاویز کو حتمی شکل دی گئی تو ملک میں قابلِ تجدید توانائی (Renewable Energy) کے منصوبوں کی رفتار بری طرح متاثر ہوگی۔ سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ چھوٹے کاروباری اداروں اور انڈسٹریز کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوگا جو مہنگی بجلی سے بچنے کے لیے سولر کا رخ کر رہے تھے۔
توانائی بحران کا حل یا نیا مسئلہ؟ پاکستان میں سولر پینلز کا استعمال
پاکستان پہلے ہی ماحولیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے، ایسے میں گرین انرجی پر ٹیکس بڑھانے اور سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافہ کرنے جیسے اقدامات ملک کو کلین انرجی کے عالمی ہدف سے مزید دور کر دیں گے اور صارفین دوبارہ مہنگی گرڈ بجلی پر انحصار کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔






