ابراہیمی معاہدہ پاکستان کا دوٹوک مؤقف، فلسطین کی آزادی تک کوئی لچک نہیں
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے عالمی فورم پر ملکی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں کو دہراتے ہوئے ایک انتہائی اہم اور واضح بیان جاری کیا ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں مشرقِ وسطیٰ کے نئے سیاسی بلاکس اور مختلف معاہدوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں عروج پر ہیں۔ اسحاق ڈار نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ابراہیمی معاہدہ پاکستان کا مؤقف بالکل اصولی اور چٹان کی طرح مضبوط ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا مصلحت پسندی کا کوئی امکان نہیں ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے فلسطینی بھائیوں کی سیاسی اور اخلاقی حمایت سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا، اور جب تک ان کے حقوق کا تحفظ نہیں ہوتا، ہماری پالیسی جوں کی توں رہے گی۔
واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو اور ابراہیمی معاہدہ افواہوں کا خاتمہ
امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے بین الاقوامی سطح پر ابراہیمی معاہدے سے متعلق افواہیں اور بے بنیاد خبریں گردش کر رہی ہیں۔ ان افواہوں کا مقصد ابراہیمی معاہدہ پاکستان کا مؤقف مبہم دکھانا ہے، لیکن ہماری حکومت نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان دباؤ میں آنے والا ملک نہیں ہے۔
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ جب تک 1967 سے پہلے کی بین الاقوامی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد، خود مختار فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی، اور القدس الشریف (یروشلم) کو اس کا مستقل دارالحکومت تسلیم نہیں کیا جاتا، تب تک پاکستان اسرائیل یا کسی بھی ایسے معاہدے کا حصہ بننے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
ایران امریکہ مذاکرات اور پاکستان کا سفارتی کردار
نائب وزیراعظم نے پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں امن کا معمار بن کر ابھرا ہے۔ ابراہیمی معاہدہ پاکستان کا مؤقف اپنی جگہ واضح ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مخلصانہ کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کو تقریباً 47 سال کے طویل عرصے کے بعد دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور ان کے مابین ابتدائی سفارتی رابطے قائم کروانے میں انتہائی کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی متحرک قیادت کی بدولت پاکستان کو عالمی برادری میں ایک نئی اور معتبر شناخت ملی ہے، یہی وجہ ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی تمام تر سازشیں اور کوششیں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات اور علاقائی تنازعات
واشنگٹن کے دورے کے دوران نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ایک انتہائی اہم اور خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں پاکستانی سفیر اور دفترِ خارجہ کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ ملاقات میں جہاں دوطرفہ تعلقات پر بات ہوئی، وہیں ابراہیمی معاہدہ پاکستان کا مؤقف بھی بالواسطہ طور پر واضح رہا۔
فلسطین کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے زور دیا کہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ان کا بنیادی حق، یعنی حقِ خودارادیت ملنا چاہیے۔ پاکستان فلسطین اور کشمیر دونوں ہی مظلوم اقوام کے مسائل پر اپنے دیرینہ اور اصولی موقف پر پوری قوت کے ساتھ قائم ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان اور پاکستان کا جواب
یہ بات یاد رہے کہ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے بعد مسلم ممالک بشمول سعودی عرب، قطر اور پاکستان کو بھی ابراہیمی معاہدہ کا حصہ بن جانا چاہیے۔
امریکی تحویل سے 31 پاکستانی اور ایرانی شہریوں کی واپسی، اسحاق ڈار
امریکی صدر کے اسی بیان اور بین الاقوامی دباؤ کے جواب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے واشنگٹن کی دھرتی پر کھڑے ہو کر ابراہیمی معاہدہ پاکستان کا مؤقف دوٹوک انداز میں پیش کر کے تمام قیاس آرائیوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا ہے۔ پاکستان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی کسی بیرونی ڈکٹیشن کے تحت نہیں بلکہ قومی امنگوں اور اسلامی یکجہتی کے اصولوں پر استوار ہے۔






