سندھ میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 122 مشتبہ کیسز، 25 کی تصدیق
سندھ بھر میں منکی پاکس کے کیسز میں اضافہ تشویشناک صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں اب تک اس وائرس کے باعث 9 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ محکمہ صحت سندھ کے ترجمان کے مطابق صوبے میں مجموعی طور پر 122 مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں سے 25 کیسز کی لیبارٹری سے باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 2 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں ایک کا تعلق کراچی جبکہ دوسرے کا خیرپور سے ہے۔
محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ ضلع خیرپور ہے، جہاں اب تک 18 تصدیق شدہ کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ سکھر میں 3 جبکہ کراچی میں 4 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ وائرس مختلف شہروں میں پھیل رہا ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق منکی پاکس ایک وائرل بیماری ہے جو قریبی جسمانی رابطے، متاثرہ افراد کے جسمانی رطوبتوں یا آلودہ اشیاء کے ذریعے منتقل ہو سکتی ہے۔ اس کی عام علامات میں بخار، جسم درد، تھکن، اور جلد پر دانے یا چھالے شامل ہیں، جو بعد ازاں زخموں کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ اگرچہ زیادہ تر کیسز میں یہ بیماری خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہے، تاہم بعض صورتوں میں یہ سنگین بھی ہو سکتی ہے، خاص طور پر کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد کے لیے۔
محکمہ صحت سندھ نے عوام اور طبی عملے سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری جسمانی رابطے سے گریز کریں، صفائی کا خاص خیال رکھیں اور علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر قریبی ہسپتال سے رجوع کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ طبی عملے کو بھی حفاظتی اقدامات اختیار کرنے اور مشتبہ مریضوں کی بروقت تشخیص کو یقینی بنانے کی تاکید کی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور متاثرہ علاقوں میں نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے مختلف ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ لوگ اس بیماری سے متعلق معلومات حاصل کریں اور بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ اس وقت کیسز کی تعداد محدود ہے، تاہم اگر احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کیا گیا تو یہ وائرس تیزی سے پھیل سکتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ عوام ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور حکومتی ہدایات پر عمل کریں تاکہ اس بیماری کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سندھ میں منکی پاکس کی موجودہ صورتحال سنجیدگی کی متقاضی ہے، اور اس سے نمٹنے کے لیے حکومت، طبی اداروں اور عوام کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔ بروقت احتیاط، آگاہی اور ذمہ دارانہ رویہ ہی اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔


One Response