پاکستان ریلوے بحران، اہم ایکسپریس ٹرینیں گھنٹوں تاخیر کا شکار
پاکستان ریلوے کا نظام ایک بار پھر دباؤ کا شکار نظر آ رہا ہے، جہاں کراچی کینٹ سے روانہ ہونے والی متعدد اہم ٹرینیں آج بھی تاخیر کا شکار رہیں، جس کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے اپنی برہمی کا کھل کر اظہار کیا۔
ریلوے ذرائع کے مطابق پاکستان ایکسپریس، کراچی ایکسپریس، ملت ایکسپریس اور زکریہ ایکسپریس سمیت کئی اہم ٹرینیں مقررہ وقت پر روانہ نہ ہو سکیں، جس سے سفری شیڈول بری طرح متاثر ہوا۔ کراچی سے راولپنڈی جانے والی پاکستان ایکسپریس دوپہر 2 بجے کے بجائے تقریباً ساڑھے 3 بجے روانہ ہوئی، جبکہ لاہور کے لیے پاک بزنس ٹرین سہ پہر 4 بجے کے بجائے شام 6 بجے روانہ کی گئی۔
اسی طرح کراچی ایکسپریس بھی اپنے مقررہ وقت شام 6 بجے کے بجائے تاخیر سے روانہ ہوئی، جبکہ ملتان جانے والی زکریہ ایکسپریس شام 6 بجے کے بجائے رات 9 بجے روانہ کی گئی۔ مزید برآں خیبر میل، جو رات 10 بجے روانہ ہونی تھی، ایک گھنٹہ تاخیر سے 11 بجے چلی، جبکہ سکھر ایکسپریس بھی اپنے مقررہ وقت رات 11 بجے کے بجائے آدھی رات 12 بجے روانہ کی گئی۔
مسافروں نے اس صورتحال پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بار بار تاخیر کے باعث نہ صرف ان کے سفری منصوبے متاثر ہوتے ہیں بلکہ ریلوے کے نظام پر اعتماد بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریلوے حکام کو فوری طور پر اس مسئلے کا حل نکالنا چاہیے تاکہ عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
دوسری جانب ریلوے حکام کا مؤقف ہے کہ کسی بھی ٹرین کو منسوخ نہیں کیا گیا، تاہم مختلف تکنیکی اور انتظامی وجوہات کی بنا پر شیڈول میں تاخیر پیش آئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تاخیر کی وجوہات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور نظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ریلوے انتظامیہ نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی معلومات یا اپڈیٹس کے لیے ریلوے انکوائری سے رابطہ کریں، تاکہ انہیں ٹرینوں کی آمد و رفت سے متعلق درست معلومات بروقت فراہم کی جا سکیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان ریلوے کو درپیش مسائل کا حل جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، بہتر منصوبہ بندی اور انتظامی اصلاحات میں مضمر ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں اور عوام کا اعتماد مزید متاثر ہو سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ٹرینوں کی مسلسل تاخیر نہ صرف مسافروں کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی ہے بلکہ قومی ٹرانسپورٹ نظام کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ریلوے حکام فوری اور مؤثر اقدامات کریں تاکہ مسافروں کو بروقت اور معیاری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔


One Response