بیرون ملک سے ڈاکٹری پڑھنے والوں کے لیے "فارن میڈیکل ایجوکیشن” کا نیا معیار مقرر، ایم ڈی کیٹ اور ایف ایس سی کی شرط لازمی
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) نے بیرون ملک طبی تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ کے لیے داخلوں کا ایک نیا اور جامع معیار جاری کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان میں طب کے شعبے میں معیار کو برقرار رکھنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ فارن میڈیکل ایجوکیشن حاصل کرنے والے طلبہ تمام ضروری تعلیمی شرائط پوری کرتے ہوں۔
ایف ایس سی اور ایم ڈی کیٹ کی لازمی شرط
کونسل کے نئے قوانین کے مطابق، جو طلبہ فارن میڈیکل ایجوکیشن کے لیے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں، ان کے لیے ایف ایس سی (پری میڈیکل) یا اس کے مساوی امتحان میں کم از کم 60 فیصد نمبر حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ مزید برآں، ان طلبہ کے لیے پاکستان میں ہونے والے ایم ڈی کیٹ (MDCAT) امتحان میں بھی کم از کم 50 فیصد نمبر لینا ضروری ہوگا، بصورتِ دیگر ان کی ڈگری کو پاکستان میں تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
آن لائن رجسٹریشن کا طریقہ کار
پی ایم ڈی سی نے واضح کیا ہے کہ فارن میڈیکل ایجوکیشن کے حصول کے لیے جانے والے طلبہ کو روانگی سے قبل کونسل کے ساتھ آن لائن رجسٹریشن کرانا ہوگی۔ یہ رجسٹریشن ان طلبہ کے لیے نہایت اہم ہے جو مستقبل میں پاکستان واپس آ کر پریکٹس کرنا چاہتے ہیں۔ مقررہ معیار کے مطابق رجسٹریشن کرانے والے طلبہ ہی نیشنل رجسٹریشن امتحان (NRE) میں شرکت کے اہل ہوں گے۔
پی ایم ڈی سی ایکٹ 2022 اور قانونی تقاضے
یہ تمام نئی شرائط پی ایم ڈی سی ایکٹ 2022 کے تحت وضع کی گئی ہیں۔ کونسل کا کہنا ہے کہ این آر ای (NRE) اور عارضی رجسٹریشن کے حصول کے لیے ان قواعد و ضوابط پر عمل کرنا قانونی ضرورت ہے۔ جو طلبہ فارن میڈیکل ایجوکیشن کے دوران ان قوانین کو نظر انداز کریں گے، انہیں پاکستان میں کام کرنے کا لائسنس حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
غیر ملکی اداروں کی پہچان اور ای سی ایف ایم جی
بیرون ملک تعلیمی اداروں کے انتخاب کے حوالے سے کونسل نے سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ فارن میڈیکل ایجوکیشن کے لیے منتخب کردہ ادارہ متعلقہ ملک کی ریگولیٹری اتھارٹی سے منظور شدہ ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ، اس طبی ادارے کا "ایجوکیشنل کمیشن فار فارن میڈیکل گریجویٹس” (ECFMG) سے تسلیم شدہ ہونا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
طلبہ کے لیے اہم مشورہ
کونسل نے طلبہ اور والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فارن میڈیکل ایجوکیشن کے لیے کسی بھی غیر ملکی یونیورسٹی میں داخلہ لینے سے پہلے ادارے کی منظوری کی حیثیت ای سی ایف ایم جی کی ویب سائٹ سے خود چیک کریں۔ کسی بھی ایجنٹ یا غیر مصدقہ معلومات پر بھروسہ کرنے کے بجائے پی ایم ڈی سی کی آفیشل ویب سائٹ سے رجوع کریں۔
پاکستان میں پریکٹس کا حق
یاد رہے کہ صرف وہی گریجویٹس پاکستان میں پریکٹس کے اہل ہوں گے جنہوں نے فارن میڈیکل ایجوکیشن کے تمام مراحل پی ایم ڈی سی کے مروجہ قوانین کے مطابق طے کیے ہوں گے۔ ان قوانین کا مقصد طبی تعلیم کے عالمی معیار کو یقینی بنانا ہے تاکہ پاکستانی مریضوں کو بہترین معالج میسر آ سکیں۔
MDCAT 2025 ملتوی – PMDC نے سیلاب کے باعث نئی تاریخ کا اعلان کیا
خلاصہ یہ کہ فارن میڈیکل ایجوکیشن اب صرف ان طلبہ کے لیے ممکن ہوگی جو تعلیمی لحاظ سے مضبوط ہوں گے اور پی ایم ڈی سی کے تمام قواعد پر سختی سے عمل پیرا ہوں گے۔