مٹی کا تیل مہنگا، حکومت نے فی لیٹر قیمت میں 39 روپے سے زائد اضافہ کردیا
وفاقی حکومت نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے مٹی کے تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ عوام کو وقتی ریلیف دینے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومتی فیصلے کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 39 روپے 20 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 358 روپے ایک پیسہ فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس اضافے کے بعد مٹی کا تیل استعمال کرنے والے صارفین، خصوصاً دور دراز اور سرد علاقوں میں رہنے والے افراد کو مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جہاں یہ ایندھن اب بھی گھریلو استعمال اور حرارت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ان پر عائد Petroleum Levy میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومتی فیصلے کے مطابق پیٹرول پر فی لیٹر لیوی 105 روپے 37 پیسے جبکہ ڈیزل پر 55 روپے 24 پیسے فی لیٹر برقرار رکھی گئی ہے۔ پٹرولیم لیوی دراصل حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات پر عائد کیا جانے والا ایک ٹیکس ہوتا ہے جو حکومتی آمدنی کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کے لیے عوام کو سبسڈی دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ Ministry of Energy Pakistan کے مطابق حکومت آئندہ چند دنوں کے لیے پیٹرول اور ڈیزل پر مجموعی طور پر 23 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کرے گی تاکہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اضافے کا براہ راست بوجھ عوام پر منتقل نہ ہو۔
وزارت توانائی کے مطابق یہ سبسڈی 14 مارچ سے 20 مارچ تک کے عرصے کے لیے دی جائے گی۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول پر فی لیٹر 49 روپے 63 پیسے جبکہ ڈیزل پر فی لیٹر 75 روپے 5 پیسے سبسڈی ادا کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنا اور مہنگائی کے دباؤ کو کسی حد تک کم کرنا ہے۔
حکام کے مطابق حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی یہ سبسڈی براہ راست صارفین کو نہیں بلکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ادا کی جائے گی۔ یہ ادائیگیاں پرائس ڈیفرینشل کلیمز کی مد میں کی جائیں گی۔ اس حوالے سے حکام نے بتایا کہ یہ رقم آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو اس فرق کو پورا کرنے کے لیے دی جاتی ہے جو عالمی منڈی میں قیمتوں اور مقامی فروخت کی قیمتوں کے درمیان پیدا ہوتا ہے۔
اس عمل میں Oil and Gas Regulatory Authority (اوگرا) بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اوگرا کے ذریعے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے کلیمز کی تصدیق کی جاتی ہے اور پھر حکومت کی جانب سے سبسڈی کی رقم ادا کی جاتی ہے۔ وزارت توانائی کے مطابق مجموعی طور پر 23 ارب روپے کے پرائس ڈیفرینشل کلیمز اوگرا کے ذریعے ادا کیے جائیں گے۔
حکومت نے اس مالی بوجھ کو منظم طریقے سے پورا کرنے کے لیے ایک خصوصی فنڈ قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ وزارت توانائی کے مطابق وفاقی کابینہ سے وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ کے قیام کی منظوری حاصل کر لی گئی ہے۔ اس فنڈ کا مقصد حکومتی اخراجات کو منظم کرنا اور مالی وسائل کو زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کرنا ہے۔
اس حوالے سے Economic Coordination Committee (اقتصادی رابطہ کمیٹی) نے بھی ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے 27 ارب 10 کروڑ روپے اس فنڈ میں منتقل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ حکومتی حکام کے مطابق یہ فنڈ مستقبل میں بھی توانائی کے شعبے میں سبسڈی اور مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
وزارت توانائی نے مزید وضاحت کی ہے کہ پرائس ڈیفرینشل کلیمز کی ادائیگی کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے ایک مکمل تصدیقی اور آڈٹ نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے جمع کرائے جانے والے بلوں کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے گی۔ اس میں مالیاتی آڈٹ، دستاویزی تصدیق اور دیگر تکنیکی مراحل شامل ہوں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ سبسڈی کی رقم درست انداز میں اور مستحق کمپنیوں کو ادا کی جا رہی ہے۔
ماہرین معاشیات کے مطابق حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ وقتی طور پر عوام کے لیے ریلیف کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم طویل مدت میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث حکومت کو مالی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
پاکستان چونکہ اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے اس لیے عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافہ براہ راست ملکی معیشت اور عوامی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اکثر قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے سبسڈی یا مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کا سہارا لیتی ہے۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے میں مستقل استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ملک متبادل توانائی ذرائع جیسے قابل تجدید توانائی، شمسی توانائی اور مقامی وسائل کو فروغ دے تاکہ درآمدی تیل پر انحصار کم کیا جا سکے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو حکومت کا حالیہ فیصلہ ایک توازن قائم کرنے کی کوشش ہے جس میں ایک طرف عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں عالمی تیل مارکیٹ کی صورتحال اور حکومتی پالیسیوں کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید رد و بدل کا امکان بھی موجود ہے۔

