امریکا اور ایران کے نمائندوں کی جلد پاکستان میں ملاقات متوقع، جرمن وزیر خارجہ کا انکشاف
اسلام آباد / برلن: یوہان واڈے فیہول نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے نمائندے بہت جلد پاکستان میں ملاقات کرنے جا رہے ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنا اور ممکنہ مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے۔
جرمن ریڈیو کو دیے گئے انٹرویو میں جرمن وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان اب تک بالواسطہ رابطے جاری رہے ہیں، تاہم اب براہ راست ملاقات کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور یہ اہم ملاقات پاکستان میں متوقع ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف بھی تصدیق کر چکے ہیں کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان مثبت پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔
دوسری جانب اسحاق ڈار اور عطا اللہ تارڑ بھی اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم سفارتی کوششیں کر رہا ہے اور امریکا و ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے راہ ہموار کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ ملاقات کامیاب ہوتی ہے تو یہ نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی کردار کو بھی مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کی تجاویز بھی سامنے آئی ہیں، تاہم ایران نے بعض امریکی تجاویز کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے، جس کے باعث مذاکرات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کامیاب کوششیں مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہیں۔
The United States and Iran could meet soon in Pakistan following indirect contacts, Germany’s foreign minister said on Friday, according to Reuters.
“Based on my information there have been indirect contacts, and preparations have been made to meet directly,” Johann Wadephul… pic.twitter.com/jYWuMeplsm
— Iran International English (@IranIntl_En) March 27, 2026
One Response