اسحاق ڈار کی چینی ہم منصب وانگ ژی سے ملاقات، اکستان اور چین کا 5 نکاتی اعلامیہ، فوری جنگ بندی اور مذاکرات کا مطالبہ

پاکستان چین وزرائے خارجہ اسحاق ڈار کی چینی ہم منصب وانگ ژی سے ملاقات
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اسحاق ڈار کی چینی ہم منصب وانگ ژی سے ملاقات، اکستان اور چین کا 5 نکاتی اعلامیہ، فوری جنگ بندی اور مذاکرات کا مطالبہ

بیجنگ: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اپنے چینی ہم منصب وانگ ژی سے اہم ملاقات کی جس کے بعد پاکستان اور چین نے خلیج اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ 5 نکاتی اعلامیہ جاری کر دیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اعلامیے میں دونوں ممالک نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ جنگ سے متاثرہ علاقوں میں انسانی امداد کی فوری اجازت دینے پر زور دیا گیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ تمام فریقین جلد از جلد مذاکرات کا آغاز کریں تاکہ تنازعات کا پرامن حل ممکن بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایرانی اور خلیجی ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔

ایوان صدر میں معاشی صورتحال پر اہم اجلاس، اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کا فیصلہ
آصف علی زرداری کی زیر صدارت ایوان صدر میں اہم اجلاس

پاکستان اور چین نے مطالبہ کیا کہ تمام فریقین طاقت کے استعمال یا دھمکی دینے سے گریز کریں اور جنگ کے دوران غیر فوجی اہداف کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ اعلامیے میں شہریوں اور غیر فوجی تنصیبات پر حملے بند کرنے اور عالمی قوانین کی پاسداری پر زور دیا گیا۔

اعلامیے میں بجلی کی تنصیبات اور پرامن جوہری ڈھانچے پر حملے روکنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ دونوں ممالک نے کہا کہ آبنائے ہرمز توانائی اور عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے، اس لیے وہاں پھنسے بحری جہازوں اور عملے کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

اسحاق ڈار کی چینی ہم منصب وانگ ژی سے ملاقات کے اعلامیے کے مطابق تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنایا جائے تاکہ بحری آمد و رفت بحال ہو سکے اور عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔

پاکستان اور چین نے مزید مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کے کردار کو مضبوط بنایا جائے اور اقوام متحدہ کے منشور کے تحت بین الاقوامی قوانین اور امن معاہدوں کی مکمل حمایت کی جائے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اسحاق ڈار کی چینی ہم منصب وانگ ژی سے ملاقات اور پاکستان اور چین کا مشترکہ اعلامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے اور اس سے امن مذاکرات کے امکانات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]