پاکستان میں موبائل فون درآمدات ایک ارب 62 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گئیں
پاکستان میں موبائل فون درآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ مقامی سطح پر موبائل فون مینوفیکچرنگ اور اسمبلنگ کے شعبے میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ کے دوران موبائل فون درآمدات کا مجموعی حجم ایک ارب 62 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 29 فیصد زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق جولائی سے اپریل تک پاکستان میں موبائل فون درآمدات کا حجم ایک ارب 62 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ حجم ایک ارب 25 کروڑ ڈالر تھا۔ ماہرین کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجوہات میں اسمارٹ فونز کی بڑھتی ہوئی طلب، آن لائن کاروبار، ڈیجیٹل معیشت کی توسیع اور جدید ٹیکنالوجی کا فروغ شامل ہیں۔
صرف اپریل 2026 کے دوران موبائل فون درآمدات 176 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہیں۔ اگر سالانہ بنیاد پر دیکھا جائے تو یہ اضافہ 41 فیصد تک ریکارڈ کیا گیا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی صارفین کی بڑی تعداد اب جدید اسمارٹ فونز کی جانب منتقل ہو رہی ہے جس کی وجہ سے درآمدات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
روپے کی بنیاد پر موبائل فون درآمدات کا مجموعی حجم 455 ارب روپے رہا جبکہ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران یہ حجم 349 ارب روپے تھا۔ مالی سال 2024-25 میں مجموعی موبائل فون درآمدات ایک ارب 49 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں، جس کے مقابلے میں رواں مالی سال میں مزید اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں مقامی سطح پر موبائل فون مینوفیکچرنگ اور اسمبلنگ کے شعبے نے بھی ترقی کی ہے۔ مارچ 2026 میں مقامی صنعت نے 27 لاکھ سے زائد موبائل فون تیار یا اسمبل کیے جبکہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی پیداوار 73 لاکھ یونٹس تک پہنچ گئی۔ یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 2 فیصد زیادہ ہے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق پاکستان میں مقامی موبائل فون صنعت کی ترقی ملکی معیشت کے لیے مثبت اشارہ ہے۔ اس سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں بلکہ درآمدی اخراجات میں کمی اور مقامی صنعتی ترقی کو بھی فروغ مل رہا ہے۔
حکومت کی جانب سے موبائل فون مینوفیکچرنگ پالیسی اور ٹیکس مراعات کے باعث کئی بین الاقوامی برانڈز نے پاکستان میں اسمبلنگ پلانٹس قائم کیے ہیں۔ مقامی سطح پر تیار ہونے والے فونز کی دستیابی بڑھنے سے صارفین کو نسبتاً کم قیمت میں اسمارٹ فونز میسر آ رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 4G اور 5G ٹیکنالوجی کی توسیع، آن لائن تعلیم، ڈیجیٹل بینکنگ اور ای کامرس کے بڑھتے رجحان نے بھی اسمارٹ فونز کی مانگ میں اضافہ کیا ہے۔ نوجوان نسل خاص طور پر جدید فیچرز والے موبائل فونز خریدنے میں دلچسپی لے رہی ہے۔
بازار ذرائع کے مطابق درآمدی موبائل فونز میں زیادہ مانگ مڈ رینج اور فلیگ شپ اسمارٹ فونز کی ہے جبکہ مقامی سطح پر تیار ہونے والے فونز میں بجٹ ڈیوائسز زیادہ فروخت ہو رہی ہیں۔ پاکستان کی موبائل مارکیٹ اس وقت جنوبی ایشیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹس میں شمار کی جا رہی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مقامی موبائل مینوفیکچرنگ کی رفتار برقرار رہی تو مستقبل میں پاکستان خطے میں موبائل فون اسمبلنگ کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔ اس سے زرمبادلہ کی بچت اور برآمدات میں اضافے کے امکانات بھی روشن ہوں گے۔

