سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ 1000 روپے مہنگا ہو گیا

پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافے کے بعد جیولری مارکیٹ کا منظر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ 1000 روپے مہنگا ہو گیا

سونے کی قیمت میں عالمی مارکیٹ کے زیر اثر ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد پاکستان میں قیمتی دھاتوں کی قیمتیں نئی بلند ترین سطحوں کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ جیولرز اور آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی مارکیٹ میں سونے اور چاندی دونوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ عالمی مارکیٹ میں بھی قیمتی دھاتوں اور خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔

مقامی صرافہ مارکیٹ کے مطابق 24 قیراط فی تولہ سونا 900 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 77 ہزار 162 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 772 روپے اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد یہ 4 لاکھ 9 ہزار 89 روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔

یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں سونا 9 ڈالر کے اضافے کے ساتھ 4548 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا ہے۔

چاندی کی قیمت میں بھی اضافہ

صرف سونا ہی نہیں بلکہ چاندی کی قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مقامی مارکیٹ میں فی تولہ چاندی 26 روپے مہنگی ہو کر 8099 روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس اضافے کے باعث زیورات اور صنعتی استعمال میں آنے والی چاندی کی لاگت بھی بڑھ گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق چاندی کی قیمت میں اضافہ بھی عالمی طلب اور ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کا نتیجہ ہے، جس کا براہ راست اثر مقامی مارکیٹ پر پڑتا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں صورتحال

بین الاقوامی سطح پر قیمتی دھاتوں کے ساتھ ساتھ خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل 111 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 107 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے۔

اسی طرح مربن خام تیل کی قیمت بھی 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جو عالمی توانائی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔

قیمتوں میں اضافے کی وجوہات

ماہرین معیشت کے مطابق سونے کی قیمت میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ، جغرافیائی کشیدگی اور سرمایہ کاروں کی محفوظ سرمایہ کاری کی طرف رجحان شامل ہیں۔

جب بھی عالمی سطح پر معاشی دباؤ بڑھتا ہے تو سرمایہ کار سونے کو محفوظ اثاثہ (Safe Haven) کے طور پر خریدتے ہیں، جس سے اس کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

پاکستان پر اثرات

پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافہ براہ راست جیولری مارکیٹ اور عام صارفین کو متاثر کرتا ہے۔ شادی بیاہ کے سیزن میں سونے کی قیمت بڑھنے سے زیورات کی خریداری مزید مہنگی ہو جاتی ہے، جس کا اثر متوسط طبقے پر زیادہ پڑتا ہے۔

جیولرز کے مطابق قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے خریداروں کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جبکہ سرمایہ کاری کے طور پر سونا خریدنے والوں کی دلچسپی برقرار ہے۔

چاندی اور صنعتی شعبہ

چاندی کی قیمت میں اضافے کا اثر صنعتی شعبے پر بھی پڑتا ہے کیونکہ چاندی الیکٹرانکس، سولر پینلز اور دیگر صنعتی مصنوعات میں استعمال ہوتی ہے۔ قیمت بڑھنے سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، جو بالآخر صارفین تک منتقل ہو جاتا ہے۔

سرمایہ کاروں کا رجحان

مالیاتی ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں سرمایہ کار زیادہ تر سونے اور قیمتی دھاتوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس کی وجہ عالمی اسٹاک مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال اور افراط زر کا دباؤ ہے۔

مستقبل کی صورتحال

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر معاشی عدم استحکام برقرار رہا تو سونے کی قیمت میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔ تاہم اگر ڈالر مضبوط ہوتا ہے اور عالمی مارکیٹ مستحکم ہوتی ہے تو قیمتوں میں کمی کا امکان بھی موجود ہے۔

خام تیل اور مہنگائی کا تعلق

خام تیل کی قیمت میں اضافہ بھی براہ راست مہنگائی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ تیل مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ، بجلی اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے، جس کا اثر مجموعی معاشی صورتحال پر پڑتا ہے۔

موجودہ صورتحال میں سونے کی قیمت اور دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں اضافہ عالمی مارکیٹ کے دباؤ اور معاشی غیر یقینی صورتحال کا واضح نتیجہ ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں اس کا اثر براہ راست عوام کی قوت خرید اور مارکیٹ کی سرگرمیوں پر پڑتا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]