بجلی سبسڈی کیخلاف بڑا ایکشن، اضافی میٹرز والوں کیلئے نیا کیو آر کوڈ سسٹم

بجلی سبسڈی کے لیے بجلی بل پر موجود کیو آر کوڈ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

وفاقی حکومت کا شکنجہ سخت، ایک سے زائد میٹرز پر سبسڈی لینے والوں کی نگرانی شروع

بجلی سبسڈی کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے وفاقی حکومت نے بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے ایک سے زائد سنگل فیز میٹرز کے ذریعے پروٹیکٹڈ کیٹیگری میں شامل ہو کر سبسڈی لینے والے صارفین کے خلاف شکنجہ مزید سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکومت نے ایسے صارفین کا مکمل ریکارڈ مرتب کرنے اور صرف مستحق افراد تک سبسڈی محدود کرنے کیلئے نیا نظام متعارف کرا دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق لیسکو سمیت ملک بھر کی مختلف بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے صارفین کے بجلی بلوں پر خصوصی کیو آر کوڈ شائع کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد اضافی میٹرز استعمال کر کے سبسڈی حاصل کرنے والے صارفین کی شناخت کرنا اور ان کا مکمل ڈیٹا اکٹھا کرنا ہے۔

حکام کے مطابق ماضی میں متعدد صارفین نے ایک ہی گھر یا پراپرٹی پر ایک سے زائد سنگل فیز میٹرز لگوا کر بجلی کی کم یونٹس والی “پروٹیکٹڈ کیٹیگری” کا فائدہ اٹھایا۔ اس طریقہ کار کے ذریعے صارفین کم نرخوں پر بجلی حاصل کرتے رہے جبکہ حکومت کو اربوں روپے کی سبسڈی دینا پڑی۔

پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ کیٹیگری کیا ہے؟

پاکستان میں بجلی صارفین کو مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پروٹیکٹڈ صارفین وہ ہوتے ہیں جو محدود یونٹس استعمال کرتے ہیں اور حکومت انہیں رعایتی نرخوں پر بجلی فراہم کرتی ہے۔ اس کے برعکس نان پروٹیکٹڈ صارفین زیادہ یونٹس استعمال کرتے ہیں اور انہیں زیادہ نرخوں پر بل ادا کرنا پڑتا ہے۔

حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ کچھ صارفین نے اس نظام کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے اضافی میٹرز نصب کروائے تاکہ ہر میٹر پر کم یونٹس ظاہر ہوں اور وہ سبسڈی حاصل کرتے رہیں۔

کیو آر کوڈ سسٹم کیسے کام کرے گا؟

بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے بلوں پر شائع کیے گئے کیو آر کوڈ کو صارفین اپنے موبائل فون سے اسکین کریں گے۔ اس کے بعد انہیں اپنی معلومات اور میٹر سے متعلق ڈیٹا اپ لوڈ کرنا ہوگا۔

حکام کے مطابق اس ڈیٹا کی مدد سے یہ معلوم کیا جا سکے گا کہ کسی ایک گھر، خاندان یا پراپرٹی پر کتنے میٹر نصب ہیں اور آیا صارف واقعی پروٹیکٹڈ کیٹیگری کا مستحق ہے یا نہیں۔

سبسڈی ختم ہونے کا امکان

وفاقی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ صارفین جو کیو آر کوڈ اسکین کر کے مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کریں گے، ان کی بجلی سبسڈی ختم کی جا سکتی ہے۔ ایسے صارفین کو نان پروٹیکٹڈ کیٹیگری میں منتقل کر کے زیادہ نرخوں پر بلنگ کی جائے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صرف حقیقی اور مستحق صارفین کو ریلیف فراہم کرنا ہے تاکہ قومی خزانے پر غیر ضروری بوجھ کم کیا جا سکے۔

لیسکو سمیت دیگر کمپنیوں کو ہدایات

ذرائع کے مطابق Lahore Electric Supply Company سمیت تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ اضافی میٹرز رکھنے والے صارفین کا مکمل ریکارڈ مرتب کریں۔

اس مقصد کیلئے جدید ڈیجیٹل نظام، ڈیٹا اینالیسز اور صارفین کی معلومات کو آپس میں منسلک کیا جا رہا ہے تاکہ غلط سبسڈی لینے والوں کی درست نشاندہی کی جا سکے۔

حکومت کو اربوں روپے کا نقصان

توانائی ماہرین کے مطابق ایک سے زائد میٹرز کے ذریعے سبسڈی لینے کے رجحان کی وجہ سے حکومت کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ بجلی کے شعبے میں پہلے ہی گردشی قرضہ اور مالی خسارہ ایک بڑا مسئلہ ہے، جبکہ غلط سبسڈی نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت صرف مستحق صارفین تک سبسڈی محدود کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے نہ صرف قومی خزانے کو فائدہ ہوگا بلکہ بجلی کے نظام میں شفافیت بھی آئے گی۔

عوامی ردعمل

اس فیصلے پر عوامی سطح پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ صارفین نے حکومت کے اقدام کو درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سبسڈی صرف غریب اور مستحق افراد کو ملنی چاہیے۔

تاہم بعض صارفین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ڈیٹا اپ لوڈ کے نظام میں پیچیدگیاں ہوئیں تو عام صارفین بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس عمل کو آسان اور شفاف بنائے تاکہ مستحق افراد کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

گھریلو صارفین کیلئے نئی ہدایات

بجلی کمپنیوں نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے بلوں پر موجود کیو آر کوڈ کو بروقت اسکین کریں اور درست معلومات فراہم کریں۔ حکام کے مطابق غلط معلومات فراہم کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بجلی کے شعبے میں مزید ڈیجیٹل اصلاحات متعارف کرائی جا سکتی ہیں تاکہ بجلی چوری، غلط بلنگ اور سبسڈی کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔

توانائی شعبے میں اصلاحات کی ضرورت

اقتصادی ماہرین کے مطابق پاکستان کا توانائی شعبہ کئی سالوں سے مالی بحران کا شکار ہے۔ مہنگی بجلی، لائن لاسز، بجلی چوری اور غیر مؤثر سبسڈی سسٹم کی وجہ سے حکومت کو بھاری مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت جدید ٹیکنالوجی اور شفاف نظام کے ذریعے سبسڈی کی تقسیم کو بہتر بناتی ہے تو اس سے بجلی کے شعبے میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

مستقبل میں مزید سختی کا امکان

ذرائع کے مطابق حکومت مستقبل میں بجلی صارفین کے ڈیٹا کو نادرا اور دیگر سرکاری اداروں کے ریکارڈ سے بھی منسلک کر سکتی ہے تاکہ سبسڈی کے نظام کو مکمل طور پر شفاف بنایا جا سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ حکومتی ریلیف صرف ان افراد تک پہنچے جو واقعی اس کے مستحق ہیں۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]