پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں، ایران نے ترمیم شدہ 14 نکاتی مسودہ پاکستان کے ذریعے واشنگٹن کو بھجوا دیا، امریکا اور ایران مذاکرات میں اہم پیشرفت
خطے میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جبکہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران نے امریکی تحفظات دور کرنے کے لیے ترمیم شدہ 14 نکاتی مسودہ پاکستان کے ذریعے واشنگٹن کو بھجوا دیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ایک ایرانی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران پر عائد پابندیوں اور ایٹمی پروگرام سے متعلق بعض معاملات میں لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ امریکا ایران پر عائد تیل کی پابندیاں نرم کرنے پر بھی آمادہ ہے جبکہ منجمد ایرانی اثاثوں میں سے 25 فیصد بحال کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے۔
رپورٹس کے مطابق تہران نے نئے مسودے میں تمام پابندیاں ختم کرنے اور معاشی ناکہ بندی کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ایٹمی پروگرام سے متعلق معاملات پر مذاکرات آئندہ مراحل میں جاری رہیں گے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا کو گزشتہ تجاویز پر کچھ تحفظات تھے جن سے ایران کو آگاہ کیا گیا، جس کے بعد تہران نے اپنا مؤقف پاکستان کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچا دیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی ثالثی میں مذاکراتی عمل جاری رہے گا۔

ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ 14 نکات پر مشتمل نیا مسودہ جنگ کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں جاری سفارتی رابطوں کے باعث اپنا دورہ تیسرے دن تک بڑھا دیا ہے، جسے اہم سفارتی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔