وزیراعظم شہباز شریف آج وفاقی ترقیاتی بجٹ کا جائزہ لیں گے، اہم تجاویز زیر غور
پاکستان میں آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں اور اسی سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی ترقیاتی بجٹ 2026-27 کا جائزہ لینے کیلئے اہم اجلاس آج طلب کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں وفاقی ترقیاتی بجٹ کے حجم، ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز کی تقسیم اور رواں مالی سال کے اخراجات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں مختلف وزارتوں اور اداروں کی جانب سے موصول ہونے والی ترقیاتی تجاویز پر غور کیا جائے گا جبکہ اہم قومی منصوبوں کیلئے فنڈز مختص کرنے سے متعلق فیصلے بھی کیے جائیں گے۔
ترقیاتی بجٹ کے حجم پر غور
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وفاقی ترقیاتی بجٹ 2026-27 کے مجموعی حجم پر خصوصی غور کیا جائے گا۔ معاشی ماہرین کے مطابق حکومت اس بار ترقیاتی بجٹ کو ملکی معاشی صورتحال اور مالی وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دینا چاہتی ہے۔
اجلاس میں وزارت منصوبہ بندی، وزارت خزانہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام وزیراعظم کو بریفنگ دیں گے۔ مختلف شعبوں خصوصاً انفراسٹرکچر، توانائی، تعلیم، صحت اور ٹرانسپورٹ کے منصوبوں کیلئے فنڈز مختص کرنے کی تجاویز پیش کی جائیں گی۔
ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز کی منظوری
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد بجٹ میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز مختص کیے جائیں گے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ایسے منصوبوں کو ترجیح دی جائے جو براہ راست عوامی فلاح، روزگار کے مواقع اور معاشی ترقی سے متعلق ہوں۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق ترقیاتی منصوبے کسی بھی ملک کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ ان سے نہ صرف انفراسٹرکچر بہتر ہوتا ہے بلکہ سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔
رواں مالی سال کے ترقیاتی اخراجات کا جائزہ
اجلاس میں رواں مالی سال کے وفاقی ترقیاتی بجٹ کے اخراجات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ وزیراعظم کو مختلف منصوبوں پر ہونے والے اخراجات، فنڈز کے استعمال اور جاری منصوبوں کی پیش رفت پر بریفنگ دی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض منصوبوں میں فنڈز کے اجرا اور تکمیل میں تاخیر کے معاملات بھی زیر غور آئیں گے تاکہ آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
173 ارب روپے کی کٹوتی
رپورٹس کے مطابق رواں مالی سال کے وفاقی ترقیاتی بجٹ میں 173 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی تھی۔ اس کٹوتی کی بنیادی وجہ معاشی دباؤ، مالی خسارہ اور حکومتی اخراجات میں توازن قائم رکھنا بتایا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ترقیاتی بجٹ میں کمی سے بعض منصوبوں کی رفتار متاثر ہوئی، تاہم حکومت اب آئندہ مالی سال میں ترجیحی بنیادوں پر ترقیاتی سرگرمیوں کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔
معاشی استحکام اور ترقیاتی ترجیحات
حکومت اس وقت معاشی استحکام، مہنگائی پر قابو پانے اور سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ ایسے میں ترقیاتی بجٹ کو معیشت کی بحالی کیلئے اہم ذریعہ تصور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں ان منصوبوں کو ترجیح دی جا سکتی ہے جو ملکی برآمدات، صنعتی ترقی، توانائی کے شعبے اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں۔
صوبوں کے ساتھ مشاورت
وفاقی ترقیاتی بجٹ 2026-27 کی تیاری کے دوران صوبوں کے ساتھ بھی مشاورت جاری ہے تاکہ قومی سطح پر متوازن ترقیاتی حکمت عملی اپنائی جا سکے۔ ذرائع کے مطابق صوبوں کی ترقیاتی ضروریات اور جاری منصوبوں کو بھی بجٹ تجاویز میں شامل کیا جا رہا ہے۔
عوامی توقعات
عوامی حلقے اس امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ حکومت آئندہ ترقیاتی بجٹ میں ایسے منصوبوں کو ترجیح دے گی جن سے روزگار، بنیادی سہولیات اور معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں۔ خاص طور پر توانائی، سڑکوں، پانی اور صحت کے شعبے میں ترقیاتی فنڈز بڑھانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کی رائے
معاشی ماہرین کے مطابق اگر حکومت ترقیاتی بجٹ کو مؤثر انداز میں استعمال کرے اور شفافیت کو یقینی بنائے تو اس سے معیشت کی رفتار بہتر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر اور غیر ضروری اخراجات پر قابو پانا بھی انتہائی ضروری ہے۔
وفاقی ترقیاتی بجٹ 2026-27 کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کا آج ہونے والا اجلاس انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس اجلاس میں ترقیاتی منصوبوں، بجٹ حجم اور فنڈز کی تقسیم سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں جو آئندہ مالی سال کی معاشی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔


One Response