راولپنڈی میں سخت سیکیورٹی، اڈیالہ جیل کے اطراف ریڈ زون، ہزار پولیس اہلکار تعینات
راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے اڈیالہ جیل کے اطراف کے علاقے کو ریڈ زون قرار دے دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے ہیں جبکہ جیل کے گرد و نواح میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل میں آج بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کا دن ہے، جس کے باعث سیکیورٹی ادارے مکمل ہائی الرٹ پر ہیں۔ انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ سیاسی کارکنوں کی بڑی تعداد جیل کے اطراف جمع ہو سکتی ہے، اسی لیے پیشگی اقدامات کیے گئے ہیں۔
ہزار پولیس اہلکار تعینات
حکام کے مطابق اڈیالہ جیل کے اطراف 9 تھانوں کی پولیس کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ 4 ڈی ایس پیز، ایس ایس پی، ایس پی صدر اور سی پی او راولپنڈی بھی سیکیورٹی نگرانی کر رہے ہیں۔
مجموعی طور پر ایک ہزار سے زائد پولیس اہلکار مختلف مقامات پر ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے۔
واٹر کینن اور سیکیورٹی حصار
اڈیالہ جیل کے باہر واٹر کینن بھی کھڑی کر دی گئی ہے جبکہ مختلف راستوں پر بیریئرز نصب کر کے نقل و حرکت محدود کر دی گئی ہے۔ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے داخلی اور خارجی راستوں کی سخت چیکنگ جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مکمل حکمت عملی تیار کر رکھی ہے۔
دکانیں اور کاروبار بند کرانے کے احکامات
انتظامیہ نے اڈیالہ جیل کے اطراف موجود دکانیں، ہوٹل، تندور اور پٹرول پمپس بند کرانے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔ مقامی تاجروں اور دکانداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر مکمل تعاون کریں۔
اس اقدام کا مقصد غیر ضروری ہجوم کو روکنا اور علاقے میں سیکیورٹی کو یقینی بنانا بتایا جا رہا ہے۔
عمران خان سے ملاقات کا دن
سیاسی حلقوں کے مطابق آج اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کا دن ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور عمران خان کی بہنوں نے بھی جیل پہنچنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
اسی تناظر میں سیاسی کارکنوں کی آمد اور ممکنہ احتجاج کے خدشات کے باعث سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
دفعہ 144 کیوں نافذ کی گئی؟
ضلعی انتظامیہ کے مطابق دفعہ 144 کا نفاذ عوامی امن و امان برقرار رکھنے کیلئے کیا گیا ہے۔ اس کے تحت غیر قانونی اجتماعات، ریلیوں اور ہجوم پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی غیر قانونی سرگرمی یا ہنگامہ آرائی کی اجازت نہیں دیں گے۔
ٹریفک اور شہری زندگی متاثر
اڈیالہ جیل کے اطراف سیکیورٹی حصار قائم ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی ہے۔ شہریوں کو متبادل راستے استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ کئی سڑکوں کو جزوی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ سخت سیکیورٹی انتظامات کے باعث روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے، تاہم انتظامیہ کے مطابق یہ اقدامات عوامی تحفظ کیلئے ضروری ہیں۔
سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ
پاکستان کی سیاسی صورتحال پہلے ہی کشیدہ سمجھی جا رہی ہے اور عمران خان سے متعلق پیش رفت ملکی سیاست کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اڈیالہ جیل کے اطراف سیکیورٹی سخت کیے جانے سے سیاسی ماحول مزید گرم ہونے کا امکان ہے۔
سوشل میڈیا پر بحث
اڈیالہ جیل کو ریڈ زون قرار دینے کی خبر سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے جہاں مختلف سیاسی حلقے اپنے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ کچھ صارفین سیکیورٹی اقدامات کو ضروری قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض اسے سیاسی کشیدگی سے جوڑ رہے ہیں۔
انتظامیہ کی اپیل
راولپنڈی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر اڈیالہ جیل کے اطراف جانے سے گریز کریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔


اڈیالہ جیل ریڈ زون قرار دیے جانے کے بعد راولپنڈی میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ عمران خان سے ملاقات کے دن کے باعث انتظامیہ مکمل الرٹ ہے جبکہ دفعہ 144 کے نفاذ کے تحت علاقے میں نقل و حرکت اور اجتماعات محدود کر دیے گئے ہیں۔