گردوں کے امراض سے بچاؤ کا آسان طریقہ: جدید طبی تحقیق

گردوں کے امراض سے بچاؤ کے لیے مچھلی اور صحت مند غذا
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

خطرناک اور جان لیوا گردوں کے امراض سے بچنا اب ممکن: مچھلی کا استعمال زندگی بچا سکتا ہے

صحت مند زندگی گزارنے کے لیے گردوں کی صحت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں گردوں کے امراض میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس نے طبی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ تاہم، آسٹریلیا میں ہونے والی ایک نئی اور جامع طبی تحقیق نے اس حوالے سے ایک انتہائی آسان اور مؤثر حل پیش کیا ہے، جو نہ صرف علاج بلکہ روک تھام میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

جدید طبی تحقیق کے حیران کن نتائج

جارج انسٹیٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ اور نیو ساؤتھ ویلز یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہفتے میں کچھ مقدار میں مچھلی کھانا آپ کو گردوں کے امراض سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ ماہرین نے دریافت کیا کہ ہفتے میں کم از کم دو بار چربی والی مچھلی کا استعمال گردوں کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے اور عمر بڑھنے کے ساتھ اس عضو کے افعال میں ہونے والی تنزلی کو روکتا ہے۔

اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کی اہمیت

اس تحقیق کا بنیادی نکتہ مچھلیوں میں پائے جانے والے ‘اومیگا 3 فیٹی ایسڈز’ ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ خاص فیٹی ایسڈز خون میں شامل ہو کر گردوں کے امراض کا خطرہ نمایاں طور پر کم کر دیتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تحقیق کے دوران پھلوں یا سبزیوں سے حاصل ہونے والے اومیگا 3 سے وہ فوائد حاصل نہیں ہوئے جو مچھلی کے استعمال سے دیکھے گئے۔ خاص طور پر ٹھنڈے پانیوں کی مچھلیاں ان فیٹی ایسڈز سے بھرپور ہوتی ہیں جو گردوں کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

عالمی سطح پر گردوں کی صحت کی صورتحال

ایک محتاط تخمینے کے مطابق، اس وقت دنیا بھر میں تقریباً 70 کروڑ افراد گردوں کے امراض کا شکار ہیں۔ ان بیماریوں کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اکثر ان کا علم اس وقت ہوتا ہے جب گردے کافی حد تک ناکارہ ہو چکے ہوتے ہیں۔ کڈنی فیلیئر جیسے جان لیوا مسائل سے بچنے کے لیے غذا میں تبدیلی ایک بہترین دفاعی حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔

انسانوں پر ہونے والی تحقیق کے اعداد و شمار

ماضی میں اس حوالے سے جانوروں پر تجربات کیے گئے تھے، لیکن اس بار ماہرین نے 12 ممالک کی 19 مختلف تحقیقی رپورٹوں کا تجزیہ کیا۔ انہوں نے عمر، جنس، جسمانی وزن اور طرز زندگی جیسے عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ پایا کہ مچھلی کا باقاعدہ استعمال گردوں کے امراض کے خطرے کو 8 سے 13 فیصد تک کم کر سکتا ہے۔ یہ شرح بظاہر کم لگتی ہے لیکن طبی لحاظ سے یہ لاکھوں جانیں بچانے کے مترادف ہے۔

کون سی مچھلی زیادہ مفید ہے؟

اگرچہ محققین نے کسی خاص مچھلی کا نام حتمی طور پر نہیں لیا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ایسی مچھلیاں جن میں چربی کی مقدار زیادہ ہو، وہ گردوں کے امراض کے خلاف زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔ اومیگا 3 کی زیادہ مقدار خون میں شامل ہو کر سوزش کو کم کرتی ہے اور گردوں کے فلٹر کرنے والے خلیات کو مضبوط بناتی ہے۔

طرز زندگی میں تبدیلی کی ضرورت

ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صرف مچھلی کھانا ہی کافی نہیں، بلکہ تمباکو نوشی سے پرہیز اور متوازن جسمانی سرگرمیاں بھی گردوں کے امراض سے بچاؤ کے لیے ضروری ہیں۔ تاہم، مچھلی کو اپنی غذا کا حصہ بنا لینا ایک ایسی عادت ہے جو گردوں کے افعال میں تنزلی کی رفتار کو سست کر دیتی ہے اور دائمی بیماریوں سے بچاتی ہے۔

لبلبے کے کینسر کا علاج: اسپین کی نئی تحقیق میں بڑی پیش رفت

یہ تحقیق حال ہی میں مشہور طبی جریدے ‘بی ایم جے’ میں شائع ہوئی ہے، جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ہماری خوراک براہ راست ہمارے اعضاء کی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر آپ اپنی باقی ماندہ زندگی گردوں کے امراض سے پاک گزارنا چاہتے ہیں، تو مچھلی کا استعمال آپ کے لیے بہترین انتخاب ہو سکتا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]