پاک افغان سرحد: پاکستان کا برطانوی نمائندے کے ریمارکس پر سخت ردعمل، ایسے یکطرفہ بیانات دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کو نظر انداز کرتے ہیں
اسلام آباد: دفتر خارجہ پاکستان نے افغانستان سے متعلق برطانوی نمائندہ خصوصی کے حالیہ ریمارکس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیانات زمینی حقائق سے لاعلمی کو ظاہر کرتے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے جذبہ خیرسگالی کے تحت مارچ میں عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، تاہم اس کے باوجود سرحد پار سے دہشت گردوں کی دراندازی اور جارحیت کا سلسلہ جاری رہا۔

ترجمان نے کہا کہ افغان طالبان کی جانب سے پاکستان پر بلااشتعال حملے کیے جا رہے ہیں جبکہ ان کی حمایت یافتہ عناصر ملک کے اندر دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں اب تک 15 عام شہری شہید جبکہ 84 زخمی ہو چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا اور مؤثر جواب دیا۔ ساتھ ہی سرحد پار سے دراندازی کی متعدد کوششوں کو بھی ناکام بنایا گیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق شہری ہلاکتوں سے متعلق افغان دعوے قابل اعتبار نہیں اور یکطرفہ برطانوی نمائندے کے ریمارکس دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
ترجمان نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرنے اور صورتحال کو متوازن انداز میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
🔊PR No.1️⃣1️⃣3️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Statement by the Spokesperson
🔗⬇️ pic.twitter.com/Zwsoeh3MiM
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) May 2, 2026