سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس: ججز کے خلاف 23 شکایات نمٹا دی گئیں

سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس میں شریک اعلیٰ عدالتی ججز کی نمائشی تصویر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل کا اہم اجلاس

‫سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے جس میں بتایا گیا کہ کونسل نے ججز کے خلاف دائر 23 شکایات کا جائزہ لینے کے بعد انہیں نمٹا دیا۔ یہ اہم اجلاس Supreme Judicial Council کے تحت منعقد ہوا جس کی سربراہی چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کی۔‬

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں اعلیٰ عدلیہ کے اہم ججز نے شرکت کی۔ اجلاس میں امین الدین خان، جو وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس ہیں، بھی شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے سینئر ججز منیب اختر اور جمال خان مندوخیل نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں وفاقی آئینی عدالت کے جج حسن اظہر رضوی، عالیہ نیلم بطور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ، اور سرفراز ڈوگر بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ بھی شریک رہے۔

اعلامیے کے مطابق شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کیلئے سپریم جوڈیشل کونسل نے سب سے پہلے اپنے ہی ارکان کے خلاف دائر شکایات کا جائزہ لیا۔ کونسل کے بعض ممبران کے خلاف شکایات زیر غور آنے پر اجلاس کی سربراہی تبدیل کی گئی تاکہ کارروائی مکمل شفاف انداز میں جاری رکھی جا سکے۔

اس مرحلے کے بعد اجلاس کی صدارت چیف جسٹس امین الدین خان نے سنبھالی۔ قائم مقام ممبران کے طور پر محمد علی مظہر اور شاہد وحید نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ عتیق شاہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 209 کے تحت موصول ہونے والی 23 شکایات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ کونسل نے ان شکایات کی نوعیت، شواہد اور متعلقہ قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام 23 شکایات نمٹا دیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل پاکستان میں ججز کے احتساب اور عدالتی شفافیت کیلئے ایک اہم آئینی ادارہ ہے۔ آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت یہ کونسل ججز کے طرز عمل، شکایات اور دیگر معاملات کا جائزہ لینے کا اختیار رکھتی ہے۔ اسی لیے اس ادارے کے فیصلوں کو عدالتی نظام میں خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنے ہی ممبران کے خلاف شکایات کا جائزہ لینے اور سربراہی تبدیل کرنے کا اقدام شفافیت اور غیر جانبداری کے اصولوں کو مضبوط بنانے کی کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔ قانونی حلقے اس عمل کو عدلیہ کے اندر احتسابی نظام کی مثال کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

سیاسی اور قانونی مبصرین کے مطابق حالیہ برسوں میں عدلیہ کی شفافیت اور احتساب کے حوالے سے عوامی توقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسے میں سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس اور اس کے فیصلے نہ صرف عدالتی نظام بلکہ ملکی سیاست اور حکمرانی کے نظام پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران مختلف شکایات کے قانونی نکات، شواہد اور آئینی تقاضوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اگرچہ اعلامیے میں شکایات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، تاہم تمام شکایات کو نمٹائے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔

ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی عموماً حساس نوعیت کی ہوتی ہے کیونکہ اس کا تعلق براہ راست اعلیٰ عدلیہ کے احتساب سے ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے کونسل کے اجلاس اور اعلامیے کو ملکی قانونی حلقوں میں خاص توجہ حاصل رہتی ہے۔

دوسری جانب بعض مبصرین کا خیال ہے کہ عدالتی نظام میں احتسابی عمل کو مزید مؤثر اور شفاف بنانے کیلئے مستقبل میں اصلاحات کی بھی ضرورت پیش آسکتی ہے تاکہ عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہو سکے۔

عدالتی ماہرین کے مطابق کونسل کی جانب سے 23 شکایات نمٹانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ادارہ اپنے آئینی فرائض کی انجام دہی میں متحرک ہے۔ اس سے عدلیہ کے اندر احتسابی عمل کو تقویت مل سکتی ہے اور شفافیت کے اصول مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے اس اہم اجلاس اور اعلامیے نے ایک بار پھر پاکستان میں عدالتی احتساب، شفافیت اور آئینی اداروں کے کردار کو قومی بحث کا اہم موضوع بنا دیا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]