پاکستان اسٹاک مارکیٹ 100 انڈیکس میں 4219 پوائنٹس کا تاریخی اضافہ – نئی بلند ترین سطح

پاکستان اسٹاک مارکیٹ 100 انڈیکس 4219 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ نئی بلند ترین سطح پر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تاریخی تیزی، 100 انڈیکس پہلی بار 1 لاکھ 62 ہزار کی حد عبور کرگیا

پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں حالیہ ہفتے کے دوران غیر معمولی تیزی دیکھی گئی ہے، جس کا بنیادی سبب وزیر اعظم پاکستان کے خلیجی ممالک کے کامیاب دورے اور بجلی کے شعبے میں گردشی قرضوں پر قابو پانے کے لیے کیے گئے اہم بینکاری معاہدے ہیں۔ ان پیش رفتوں نے نہ صرف سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا بلکہ مارکیٹ میں وسیع پیمانے پر سرگرمی کو بھی فروغ دیا۔

گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس مجموعی طور پر 4219 پوائنٹس کے شاندار اضافے کے ساتھ 2.70 فیصد بڑھا، اور پہلی مرتبہ اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح 162,257 پوائنٹس پر بند ہوا۔ مارکیٹ کی یہ بلند پروازی ماہرین معاشیات کے نزدیک حکومت کی معاشی پالیسیوں اور بین الاقوامی سفارتی تعلقات میں بہتری کی مظہر ہے۔

وزیر اعظم کا خلیجی ممالک کا دورہ — اعتماد کی فضا ہموار

وزیر اعظم کا حالیہ دورہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اور قطر سمیت دیگر خلیجی ممالک میں سرمایہ کاری، تجارتی تعلقات اور معاشی تعاون کے فروغ کے لیے ایک انتہائی اہم پیش رفت ثابت ہوا۔ ذرائع کے مطابق ان دوروں کے دوران کئی اہم معاہدے زیر غور آئے، جن میں توانائی، انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور مالیاتی شعبے شامل ہیں۔

ان ممالک نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات پر مثبت ردِ عمل کا اظہار کیا ہے، اور ابتدائی طور پر چند ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی یقین دہانیاں بھی سامنے آئی ہیں۔ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد کے اثرات فوری طور پر پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بھی دیکھنے کو ملے، جہاں غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

گردشی قرضوں کا مسئلہ — 18 بینکوں سے معاہدہ ایک بڑی پیش رفت

توانائی کے شعبے میں موجود گردشی قرضہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی معیشت کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ رہا ہے۔ تاہم، حالیہ دنوں میں حکومت نے اس بحران پر قابو پانے کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے 18 مقامی بینکوں کے ساتھ ایک مالیاتی معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت گردشی قرضے کو مرحلہ وار حل کرنے کے لیے ایک جامع مالیاتی ماڈل پیش کیا گیا ہے۔

یہ معاہدہ سرمایہ کاروں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ حکومت سنجیدگی سے توانائی کے شعبے کی اصلاحات پر کام کر رہی ہے، جو نہ صرف ملک میں بجلی کی ترسیل اور پیداوار کو بہتر بنائے گا بلکہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو بھی مستحکم کرے گا۔

ایک ہفتے میں ٹریڈنگ کا زبردست حجم — 300 ارب روپے سے زائد کا کاروبار

رپورٹ کے مطابق، ایک ہفتے کے دوران 8.35 ارب شیئرز کا کاروبار ہوا، جن کی مجموعی مالیت 300 ارب روپے سے زائد رہی۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ مارکیٹ میں نہ صرف بڑے ادارہ جاتی سرمایہ کار سرگرم ہوئے بلکہ ریٹیل سرمایہ کاروں نے بھی پورے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔

اس عرصے کے دوران انڈیکس کی بلند ترین سطح 162,422 جبکہ کم ترین سطح 157,245 رہی، جو مارکیٹ میں مسلسل دلچسپی اور سرمایہ کاروں کی اعتماد بحالی کو ظاہر کرتی ہے۔

کاروباری برادری اور ماہرین کا ردِعمل

معاشی ماہرین اور اسٹاک بروکرز کا کہنا ہے کہ حکومت کے حالیہ اقدامات سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے میں اہم سنگِ میل ثابت ہو رہے ہیں۔ معروف سرمایہ کار اور تجزیہ کار محمد علی خان کا کہنا تھا:

"وزیر اعظم کے خلیجی ممالک کے دورے نے نہ صرف بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے لیے ایک مثبت پیغام دیا ہے بلکہ اس نے ملکی سرمایہ کاروں کو بھی ایک نئی امید دی ہے۔”

اسی طرح، ایک سینئر معاشی تجزیہ کار فوزیہ کریم کا کہنا تھا کہ:

"گردشی قرضوں کے مسئلے پر 18 بینکوں سے معاہدہ ملکی معیشت کی بہتری میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ یہ اصلاحات اگر اسی تسلسل سے جاری رہیں تو مستقبل قریب میں پاکستان کا سرمایہ کاری ماحول بہت بہتر ہو سکتا ہے۔”

غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کے آثار

پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا ایک اہم عنصر غیر ملکی سرمایہ کاروں کی واپسی بھی ہے۔ ماضی میں سیاسی غیر یقینی، مالیاتی مسائل اور روپے کی گرتی ہوئی قدر نے بیرونی سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا تھا۔ تاہم حالیہ سفارتی اور معاشی اقدامات کے بعد کئی غیر ملکی فنڈز اور ادارے دوبارہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے میدان میں آ رہے ہیں۔

ایس ای سی پی (سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان) اور دیگر مالیاتی ادارے بھی مارکیٹ کی شفافیت کو یقینی بنانے اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے فعال کردار ادا کر رہے ہیں، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی میں مزید مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔

مستقبل کی توقعات — کیا یہ تیزی برقرار رہے گی؟

مارکیٹ ماہرین کے مطابق، اگر حکومت اصلاحاتی عمل کو مستقل مزاجی سے جاری رکھے، تو اسٹاک مارکیٹ میں یہ مثبت رجحان مستقبل قریب میں بھی برقرار رہ سکتا ہے۔ البتہ، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں، جغرافیائی سیاسی حالات اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر جیسی بیرونی اور اندرونی صورت حال بھی مارکیٹ کی سمت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ایک معروف سرمایہ کاری ہاؤس کے مطابق:

"اگر اگلے دو مہینوں میں آئی ایم ایف سے مثبت پیش رفت ہوئی اور خلیجی ممالک سے سرمایہ کاری کے معاہدے عملی شکل اختیار کر گئے، تو کے ایس ای 100 انڈیکس کی سطح 170,000 پوائنٹس تک بھی جا سکتی ہے۔”

ایک روشن آغاز

گزشتہ ہفتے کی شاندار کارکردگی نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ پاکستان کی معیشت ایک بار پھر استحکام کی جانب گامزن ہے۔ حکومت کے بروقت فیصلے، سفارتی کامیابیاں اور نجی شعبے کے ساتھ اشتراک ملک کو ایک نئے اقتصادی دور کی جانب لے جا سکتے ہیں۔

اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کا موجودہ رجحان اگر برقرار رہا، تو یہ نہ صرف مالیاتی شعبے بلکہ ملک کی مجموعی معیشت میں بحالی کی نوید بن سکتا ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی اور ہنڈریڈ انڈیکس 159 ہزار پر بحال
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال، ہنڈریڈ انڈیکس میں زبردست اضافہ
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تاریخی تیزی اور ڈالر کی قیمت میں کمی
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئی ریکارڈ تیزی، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]